تو اِس بات کا قائل ہے کہ عیسیٰ ابن مریم دوبارہ آسمان سے واپس آئے گا مگر اس کے مقابل پر معتزلہ اور بعض صوفیہ کا یہ فرقہ ہے کہ دوبارہ آنا غلط ہے بلکہ مسیح ابن مریم فوت ہو چکا ہے اور آنے والا اِسی اُمت میں سے ہو گا۔ اب بتلاؤ کہ میں نے کونسی زیادتی اور مخالفتِ اسلام کی۔ صرف یہ کیا کہ خدا سے وحی پا کر مُسلمانوں کے دو عقیدوں میں سے ایک عقیدے کو ردّکر دیا اور اس کو مخالف قراٰناور مخالف اجماع صحابہ بتلایا اور دُوسرے عقیدہ کی تصدیقکی اور اس کے موافق اپنے تئیں ظاہر کیا۔ کیا حَکم کے لئے ضروری تھا کہ تمہارے کئی فرقوں میں سے صرف اہلحدیث کی بات مانتا یا صرف حنفیوں کی بات قبول کرتا اور باقی تمام فرقوں کے تمام اجتہادی عقائد کو ردّ کر دیتا تو اِس صورت میں تو تُم ہی حَکَم ٹھہرے نہ وُہ۔ ہاں سچ ہے کہ ہر ایک عقیدہ جب عادت میں داخل ہو جاتا ہے تو اس کا چھوڑنا مشکل ہو جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح جو مُدّت کے فوت ہو چکے آپ لوگوں کے خیال میں وہ اب تک بجسم عنصری آسمان پر بیٹھے ہیں۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ آسمان پر نہیں بلکہ آپ لوگوں کے دل پر بیٹھے ہیں اور پُرانے عقیدوں کی وجہ سے ہردم زبان پر نزول کر رہے ہیں۔ تم سے پہلے یہودیوں کو بھی یہی بلاپیش آئی تھی کہ اُن کے نزدیک صحیح عقیدہ یہی تھا کہ الیاس آسمان سے نازل ہو گا تب مسیح آ ئے گا لیکن جب حضرت مسیح آئے اور الیاس آسمان سے نازل نہ ہوا تو یہودیوں نے تکذیب کا وہ شور مچایا کہ آپ لوگوں کے شور اور اُن کے شور میں فرق کرنا مشکل *ہے اور ؔ بڑے جوش سے حضرت عیسیٰ سے یہودیوں نے سوال کیا کہ ابھی الیاس تو دوبارہ دنیا میں آیا نہیں تو تم کیونکر سچا مسیح ٹھہر سکتے ہو۔ تب انہوں نے جواب دیا کہ الیاس تم میں موجود ہے جو یوحنّا نبی ہے یعنی یحییٰ مگر کسی نے یہ جواب پسند نہ کیا اور آج تک حضرت عیسیٰ کو * حاشیہ ۔ یہودیوں اور عیسائیوں اور مسلمانوں پر بباعث اُن کے کسی پوشیدہ گناہ کے یہ ابتلا آیا کہ جن راہوں سے وہ اپنے موعود نبیوں کا انتظار کرتے رہے اُن راہوں سے وہ نبی نہیں آئے بلکہ چور کی طرح کسی اور راہ سے آ گئے۔ منہ