انگریزی گورنمنٹ کو طاقتور پایا اور اطاعت قبول کر لی مگر یہ لوگ اب تک آسمانی گورنمنٹ کے باغی ہیں۔ خدا کے نشانوں کو نہیں دیکھتے۔ اُمّت ضعیفہ کی ضرورت پر نظر نہیں ڈالتے۔ صلیبی غلبہ کا مشاہدہ نہیں کرتے اور ہر روزہ ارتداد کا گرم بازار دیکھ کر اُن کے دل نہیں کانپتے۔ اور جب اُن کو کہا جائے کہ عین ضرورت کے وقت میں عین صدی کے سر پر عین غلبہ صلیب کے ایام میں یہ مجدّد آیا جس کا نام اِن معنوں سے مسیح موعود ہے کہ جو اسی صلیبی فتنہ کے وقت میں ظاہر ہوا تو کہتے ہیں کہ حدیثوں میں ہے کہ اس اُمت میں تیس ۳۰ دجّال آویں گے کہ تا اُمت کا اچھی طرح خاتمہ کر دیں۔ کیا خوب عقیدہ ہے!!! اے نادانوں کیا اِس اُمت کی ایسی ہی پھوٹی ہوئی قسمت اور ایسے ہی بدطالع ہیں کہ اُن کے حصہ میں تیس دجّال ہی رہ گئے۔ دجّال تو تیس مگر طوفانِ صلیب کے فرو کرنے کے لئے ایک بھی مجدد نہ آسکا زہے قسمت۔ خدا نے پہلی اُمتوں کے لئے تو پے در پے نبی اور رسول بھیجے لیکن جب اِس اُمت کی نوبت آئی تو اس کو تیس۳۰ دجّال کی خوشخبری سُنائی گئی اور پھر یہ بھی ثابت شدہ پیشگوئی ہے کہ آخرکار اس اُمّت کے علماء بھی یہودی بن جائیں گے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اب تک لاکھوں آدمی مُرتد ہو چکے جنہوں نے دینِ اسلام کو ترک کر دیا پس کیا اس درجہ کی ضلالت تک ابھی خدا خوش نہ ہوا اور اس کے دل کو سیری نہ ہوئی جب تک اُس نے خود اِسی اُمت میں سے صدی کے سر پر ایک دجّال بھیج نہ دیا۔ خوب اُمت مرحومہ ہے جس کے حق میں یہ عنایات ہیں اور پھر یہ کہ باوجودیکہ اس دجّال کے مارنے کے لئے مومنوں کے سجدات میں ناکَ گھس گئے۔ لاکھوں دعائیں اورؔ تدبیریں اُس کی ہلاکت اور تباہی کے لئے کی گئیں مگر خدا نہیں سنتا مُنہ پھیر لیتا ہے بلکہ برعکس اِس کے یہ دجّال برابر تیس برس سے ترقی کر رہا ہے اور دنیا میں آسمان کے نور کی طرح پھیلتا جاتا ہے۔ اِس سے تو ثابت ہوتا ہے کہ یہ اُمت نہایت ہی