شائع کئے آخر وہ بھی جلد دنیا سے رخصت ہو گیا۔ پھر عبدالحق غزنوی اُٹھا اور بالمقابل مباہلہ کرکے دُعائیں کیں کہ جو جھوٹا ہے خدا کی اُس پر *** ہو برکتوں سے محروم ہو دنیا میں اُس کی قبولیت کا نام و نشان نہ رہے۔ سو تم خود دیکھ لو کہ ان دُعاؤں کا کیا انجام ہوا اور اب وہ کس حالت میں اور ہم کس حالت میں ہیں۔ دیکھو اس مباہلہ کے بعد ہریک بات میں خدا نے ہماری ترقی کی اور بڑے بڑے نشان ظاہر کئے آسمان سے بھی اور زمین سے بھی اور ایک دنیا کو میری طرف رجوع دے دیا اور جب مباہلہ ہوا تو شاید چالیس۴۰ آدمی میرے دوست تھے* اور آج ستّر ہزار کے قریب اُن کی تعداد ہے اور مالی فتوحات اب تک دو لاکھ روپیہ سے بھی زیادہ اور ایک دنیا کو غلام کی طرح ارادت مند کر دیا اور زمین کے کناروں تک مجھے شہرت دے دی۔ لطف تب ہو کہ اوّل قادیان میںآؤ اور دیکھو کہ ارادت مندوں کا لشکرکس قدر اِس جگہ خیمہ زن ہے اور پھر امرتسر میں عبدالحق غزنوی کو کسی دوکان پر یا بازار میں چلتاہوا دیکھو کہ کس حالت میں چل ؔ رہا ہے۔ بڑا افسوس ہے کہ خدا کی طاقت کھلے کھلے طور پر میری تائید میں آسمان سے نازل ہو رہی ہے مگر یہ لوگ شناخت نہیں کرتے۔ ٹرنسوال اور دولت برطانیہ کی صلح ہو گئی۔ مگر ان لوگوں کا اب تک جنگ باقی ہے ٹرنسوال نے عقلمندی کرکے * حاشیہ : عبدالحق کا یہ مباہلہ بھی اِس بات پر دلالت کرتا تھا کہ اس کو خدا اور رسول کی کچھ بھی پروا نہیں کیونکہ جبکہ اﷲ تعالیٰ نے صاف فرما دیا کہ عیسیٰ فوت ہو گیا اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے گواہی دے دی کہ مَیں اُس کو مُردہ رُوحوں میں دیکھ آیا ہوں اور صحابہ نے اجماع کر لیا کہ سب نبی فوت ہو چکے ہیں اور ابن عباس نے بخاری میں توفی کے معنی بھی موت کر دیئے تو اِس صورت میں مباہلہ کے معنی بجُز اس کے کیا تھے کہ مَیں خدا اور رسول کو نہیں مانتا۔ منہ