پیدا کیا۔ اپنے دلوں میں غور کرو کہ کبھی خدا نے کسی جھوٹے کے ساتھ ایسی رفاقت کی کہ قوموں کے ارادوں اور کوششوں کو اس کے مقابل پر ہر ایک میدان میں نابود کر دیا۔ اور اُن کو ہر ایک کو اس کے حملہ میں نامراد رکھا۔ باز آ جاؤ اور اُس کے قہر سے ڈرو اور یقیناًسمجھو کہ تم اپنی مفسدانہ حرکات پر مُہر لگا چکے۔ اگر خدا تمہارے ساتھ ہوتا تو اس قدر فریبوں کی تمہیں کچھ بھی حاجت نہ ہوتی۔ تم میں سے صرف ایک شخص کی دُعا ہی مجھے نابود کر دیتی۔ مگرتم میں سے کسی کی دُعا بھی آسمان پر نہ چڑھ سکی۔ بلکہ دُعاؤں کا اثریہ ہوا کہ دن بدن تمہارا ہی خاتمہ ہوتا جاتا ہے۔ تم نے میرا نام مسیلمہ کذّاب رکھا۔ لیکن مسیلمہ تو وہ تھا جس کا ایک ہی جنگ میں خاتمہ ہو گیا مگر تم تو بیس برس تک جنگ کئے گئے اور ہر جنگ میں نامُراد رہے کیا سچوں اور مومنوں کے یہی نشان ہوا کرتے ہیں؟ کیا تم دیکھتے نہیں کہ تم گھٹتے جاتے اور ہم بڑھتے جاتے ہیں۔ اگر تمہارا قدم کسی سچائی پر ہوتا تو کیا اس مقابلہ میں تمہارا نجام ایسا ہی ہونا چاہئیے تھا۔ کس نے تم میں سے مباہلہ کیا کہ آخر اُس نے ذِلت یا موت کا مزہ نہ چکھا۔ اوّل تم میں سے مولوی اسمٰعیل علیگڑھ نے میرے مقابل پر کہا کہ ہم میں سے جو جھوٹا ہے وہ پہلے مَر جائے گا۔ سو تم جانتے ہو کہ شاید دس سال کے قریب ہو چکے کہ وہ مر گیا۔ اَور اب خاک میں اُس کی ہڈیاں بھی نہیں مل سکتیں۔ پھر پنجاب میں مولوی غلام دستگیر قصُوری اُٹھا اور اپنے تئیں کچھ سمجھا اور اُس نے اپنی کتاب میں میرے مقابلہ میں یہ لکھا کہ ہم دونوں میں سے جو جُھوٹا ہے وہ پہلے مَر جائے گا سو کئی سال ہو گئے کہ غلام دستگیر بھی مر گیا۔ وہ کتاب چھپی ہوئی موجود ہے۔ اِسی طرح مولویؔ رشید احمد گنگوہی اُٹھا اور ایک اشتہار میرے مقابل پر نکالا اور جھوٹے پر *** کی اور تھوڑے دنوں کے بعد اندھا ہو گیا۔ دیکھو اور عبرت پکڑو۔ پھر بعد اس کے مولوی غلام محی الدین لکھوکے والا اُٹھا۔ اُس نے بھی ایسے ہی الہام