ہزارہا روپے کے انعامی اشتہار دئے گئے کہ اگر وہ بالمقابل بیٹھ کر کسی سورۃ قرآنی کی تفسیر عربیفصیح بلیغ میں میرے مقابل پر لکھ سکیں تو وہ انعام پاویں۔ مگر وہ مقابلہ نہ کر سکے تو کیا یہ نشان نہیں تھا کہ خدا نے اُن کی ساری علمی طاقت سلب کر دی۔ باوجود اس کے کہ وہ ہزاروں تھے تب بھی کسی کو حوصلہ نہ پڑا کہ سیدھی نیّت سے میرے مقابل پر آوے اور دیکھے کہ خدا تعالیٰ اس مقابلہ میں کس کی تائید کرتا ہے۔ پھر ایک اور نشان اُن کے لئے تھا کہ انہوں نے میرے تباہ کرنے کے لئے جان توڑ کر کوششیں کیں اور کوئی مکر اور فریب اُٹھا نہ رکھا جو اس کو استعمال نہ کیا اور مخالفت کے اظہار میں تمام زور اپنا انواع اقسام کے وسائل سے خرچ کر دیا اور ناخنوں تک ز ور لگایا اور جائز ناجائز طریق سب اختیار کئے اور سبّ و شتم اور تحقیر اور توہین سے پُورا کام کیا۔ حکّام تک مقدمات پہنچائے خون کے الزام لگائے۔ لیکن آخر نتیجہ یہ ہو اکہ جو جماعت پہلے دنوں میں چالیس آدمیوں سے بھی کم تھی آج ستّر ہزار کے قریب پہنچ گئی۔ اور باوجود سخت مخالفانہ مزاحمتوں کے براہین احمدیہ کی وہ پیشگوئی پوری ہوئی جو آج سے بیس برس پہلے دنیا میں شائع ہو چکی تھی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ لوگ مزاحمتیں کریں گے اور اس سلسلہ کو نابود کرنا چاہیں گے لیکن خدا ان کے ارادوں کے مخالف کرے گااور اس سلسلہ کو ایک بڑی جماعت بنا دے گا یہاں تک کہ یہ سلسلہ بہت ہی جلد دنیا میں پھیل جائے گا اور اُن لوگوں کے ارادوں پر *** کا داغ ظاہر ہو جائے گا جنہوں نے روکنا چاہا تھا اب بتلاؤ کہ کیا اب تک خدا کی معجزانہ تائید ثابت نہ ہوئی۔ اگر یہ کاروبار کسی مکّار کا ہوتا تو کیا اس کا نتیجہ یہی ہونا چاہئیے تھا۔ اُٹھو اور دنیا میں اس بات کی تلاش کرو کہ کون مکّار تاریخ کے صفحہ سے تم بتلا سکتے ہو جس کے ہلاک کرنے کے لئےؔ یہ کوششیں کی گئیں اور پھر وہ تباہ نہ ہوا۔ اے سخت دل قوم تمہیں کس نے چاند پر تُھوکنا سِکھلایا ۔ کیا تم اُس سے لڑو گے جس نے زمین و آسمان کو