دُعا مانگنے میں سُست ہے وہ متکبر ہے کیونکہ قُوّتوں اور قُدرتوں کے سرچشمہ کو اُس نے شناخت نہیں کیا اور اپنے تئیں کچھ چیز سمجھا ہے۔ سو تم اے عزیزو ان تمام باتوں کو یاد رکھو ایسا نہ ہو کہ تم کسی پہلو سے خدا تعالیٰ کی نظرمیں متکبّر ٹھہر جاؤ اور تم کو خبر نہ ہو۔ ایک شخص جو اپنے ایک بھائی کے ایک غلط لفظ کی تکبّر کے ساتھ تصحیح کرتا ہے اُس نے بھی تکبّر سے حصّہ لیا ہے۔ ایک شخص جو اپنے بھائی کی بات کو تواضع سے سننا نہیں چاہتا اور مُنہ پھیر لیتا ہے اُس نے بھی تکبر سے حصہ لیا ہے۔ ایک غریب بھائی جو اس کے پاس بیٹھا ہے اور وہ کراہت کرتا ہے اس نے بھی تکبر سے حصہ لیا ہے۔ ایک شخص جو دُعا کرنے والے کو ٹھٹھے اور ہنسی سے دیکھتا ہے اُس نے بھی تکبّر سے ایک حصّہ لیا ہے۔ اور وہ جو خدا کے مامور اور مرسل کی پورے طور پر اطاعت کرنا نہیں چاہتا اُس نے بھی تکبّر سے ایک حصّہ لیا ہے۔ اور وہ جو خدا کے مامور اور مُرسل کی باتوں کو غور سے نہیں سنتا اور اس کی تحریروں کو غور سے نہیں پڑھتا اُس نے بھی تکبّر سے ایک حصہ لیا ہے۔ سو کوشش کرو کہ کوئی حصّہ تکبّر کا تم میں نہ ہو تاکہ ہلاک نہ ہو جاؤ اور تا تم اپنے اہل و عیال سمیت نجات پاؤ۔ خدا کی طرف جھکواور جس قدر دنیا میں کسی سے محبت ممکن ہے تم اُس سے کرواور جس قدر دنیا میں کسی سے انسان ڈر سکتا ہے تم اپنے خدا سے ڈرو۔ پاک دل ہو جاؤ اور پاک ارادہ اور غریب اور مسکین اور بے شر تا تم پر رحم ہو۔ اب ہم پھر اپنے پہلے بیان کی طرف رُجوع کرکے لکھتے ہیں کہ طاعون کے بارے میں پیشگوئی صرف براہین احمدیہ میں ہی نہیں بلکہ براہین کے زمانہ سے جس کو بیس برس سے زیادہ عرصہ گذر گیا۔ اس زمانہ تک جس قدر کتابیں تالیف ہوئی ہیں یا اشتہار شائع ہوئے ہیں اکثر میں یہ پیشگوئی موجود ہے چنانچہ آج سے آٹھ برس پہلے یہی پیشگوئی رسالہؔ نور الحق میں جو عربی رسالہ ہے اس کے صفحہ ۳۵۔۳۶۔ ۳۷۔۳۸ میں کی گئی ہے اور پھر آج سے پانچ برس پہلے یہی پیشگوئی رسالہ سراج منیر کے صفحہ ۵۹ و ۶۰ میں