منتشرؔ کرنے والی ہو محفوظ رہے گا۔ (۲)دُوسرے یہ ارادہ کہ خدائے کریم خاص طور پر اس گھر کی حفاظت کرے گا اور اس تمام عذاب سے بچائے گا جو گاؤں کے دُوسرے لوگوں کو پہنچے گا اور اس وحی اﷲکا اخیر فقرہ اُن لوگوں کے لئے مُنذر ہے جن کے دلوں میں بے جا تکبّر ہے۔ اِس لئے مَیں اپنی جماعت کو نصیحت کرتاہوں کہ تکبّر سے بچو کیونکہ تکبر ہمارے خداوند ذوالجلال کی آنکھوں میں سخت مکروہ ہے۔مگر تم شاید نہیں سمجھو گے کہ تکبّر کیا چیز ہے۔ پس مُجھ سے سمجھ لو کہ مَیں خدا کی رُوح سے بولتا ہوں۔ ہر ایک شخص جو اپنے بھائی کو اِس لئے حقیر جانتا ہے کہ وہ اس سے زیادہ عالم یا زیادہ عقلمند یا زیادہ ہُنر مند ہے وہ متکبر ہے کیونکہ وہ خدا کو سرچشمہ عقل اور علم کا نہیں سمجھتا اوراپنے تئیں کچھ چیز قرار دیتا ہے۔کیا خدا قادر نہیں کہ اُس کو دیوانہ کر دے اور اُس کے اُس بھائی کو جس کو وہ چھوٹا سمجھتا ہے اُس سے بہتر عقل اور علم اور ہُنردے دے۔ ایسا ہی وہ شخص جو اپنے کسی مال یا جاہ و حشمت کا تصوّر کرکے اپنے بھائی کو حقیر سمجھتا ہے وہ بھی متکبر ہے کیونکہ وہ اِس بات کو بُھول گیا ہے کہ یہ جاہ و حشمت خدا نے ہی اُس کو دی تھی اور وہ اندھا ہے اور وہ نہیں جانتا کہ وہ خدا قادر ہے کہ اُس پر ایک ایسی گردش نازل کرے کہ وہ ایک دم میں اسفل السافلین میں جا پڑے اور اس کے اس بھائی کو جس کو وہ حقیر سمجھتا ہے اس سے بہتر مال و دولت عطا کر دے۔ایسا ہی وہ شخص جو اپنی صحت بدنی پر غرور کرتا ہے یا اپنے حسن اور جمال اور قوت اور طاقت پر نازاں ہے اور اپنے بھائی کا ٹھٹھے اور استہزا سے حقارت آمیز نام رکھتا ہے اور اُس کے بدنی عیوب لوگوں کو سُناتا ہے وہ بھی متکبر ہے اور وہ اس خدا سے بے خبر ہے کہ ایک دم میں اُس پر ایسے بدنی عیوب نازل کرے کہ اس بھائی سے اس کو بدتر کر دے اور وہ جس کی تحقیر کی گئی ہے ایک مدّت دراز تک اس کے قویٰ میں برکت دے کہ وہ کم نہ ہوں اور نہ باطل ہوںؔ کیونکہ وہ جوچاہتا ہے کرتا ہے۔ ایسا ہی وہ شخص بھی جو اپنی طاقتوں پر بھروسہ کرکے