کی گئی۔ اور پھر آج سے چار برس چھ ماہ پہلے اشتہار طاعون مورخہ ۶؍ فروری ۱۸۹۸ ؁ء میں یہ پیشگوئی کی گئی جس کے یہ الفاظ تھے کہ مَیں نے خواب میں دیکھا کہ خدائے تعالیٰ کے ملائک ملک پنجاب کے مختلف مقامات میں سیاہ رنگ کے پودے لگا رہے ہیں اور وہ درخت نہایت بدشکل اور سیاہ رنگ اور خوفناک اور چھوٹے قد کے ہیں۔ بعض درخت لگانے والوں سے مَیں نے پُوچھا کہ یہ کیسے درخت ہیں۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ طاعون کے درخت ہیں جو عنقریب ملک میں پھیلنے والی ہے۔ دیکھو اشتہار طاعون مورخہ ۶؍ فروری ۱۸۹۸ ؁ء اور یہ رسائل اور یہ اشتہار لاکھوں انسانوں میں مشتہر ہو چکے ہیں اور ظاہرہے کہ اس قدر عظیم الشان پیشگوئی کہ ایک مُدّت دراز طاعون کے وجود سے پہلے کی گئی یہ انسان کا کام نہیں اور اس سے یہ ثابت ہے کہ یہ طاعون محض اس لئے ملک پنجاب میں سب ملکوں سے زیادہ حملہ آور ہے کہ اسی ملک نے سب سے زیادہ خدا کی باتوں پر حملہ کیا اور اسی ملک نے خدا کے مامور اور مرسل کے مقابل پر طریقہ رہزنی اختیار کیا۔ نہ آپ سلسلہ حقہ میں داخل ہوئے نہ ہندوستان کے لوگوں کو داخل ہونے دیا۔ پس چونکہ خدائے تعالیٰ کی نظر میں اوّل درجہ کا مخالف یہی ملک تھا اس لئے اوّل درجہ کے طاعون سے اسی ملک نے حصّہ لیا اور اسی ملک کے لئے وہ دُعا تھی جو طاعون کے لئے آج سے ایک مُدّت دراز پہلے مَیں نے مانگی تھی جو قبول کی گئی جس کے صدہا پرچے ملک میں شائع کئے گئے تھے مگر افسوس کہ اس ملک کے لوگوں نے بڑی سنگدلی ظاہر کی۔ خدا کے کُھلے کُھلے نشان دیکھے ا ور انکار کیا۔ وہ نشان جو ملک میں ظاہر ہوئے جن کے ہزاروں بلکہ لاکھوں انسان گواہ ہیں جن میں سے کسی قدر بطور نمونہ اِسی کتاب میں لکھے جائیں گے وہ ڈیڑھ سو سے بھی کچھ زیادہ ہیں لیکن اِس ملک کےؔ لوگ ابھی تک کہے جاتے ہیں کہ کوئی نشان ظاہر نہیں ہوا۔ تو اب بتلاؤ کہ کیا اَب بھی طاعون مُلک میں ظاہر نہ ہو۔ نشانوں کو دیکھنا اور پھر تکذیب کرنا