تنبیہؔ نازل ہوگی۔
اور پھر براہین احمدیہ میں یہ الہام الم نجعل لک سھولۃ فی کل امر* بیت الفکر و بیت الذکر و من دخلہٗ کَان اٰمنًا۔ یعنی ہم نے تیرے لئے بیت الفکر اور بیت الذکر بنایا ہے اور جو ان میں داخل ہو گا وہ امن میں آ جائے گا۔ چونکہ اﷲ تعالیٰ جانتا تھا کہ ملک میں عام طاعون پڑے گی اور کسی کم مقدار کی حد تک قادیان بھی اس سے محفوظ نہیں رہے گی اس لئے اس نے آج کے دِنوں سے تیئیس۲۳ برس پہلے فرما دیا کہ جو شخص اس مسجد اور اس گھر میں داخل ہوگا یعنی اخلاص اور اعتقاد سے وہ طاعون سے بچایا جائے گا۔ اسی کے مطابق ان دنوں میں خدا تعالیٰ نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا انی احافظ کل من فی الدار۔ الا الذین علوا من استکبار۔ واحافظک خاصۃ سلام قولا من ربّ رحیم یعنی مَیں ہر ایک انسان کو طاعون کی موت سے بچاؤں گا جو تیرے گھر میں ہو گا مگر وہ لو گ جو تکبّر سے اپنے تئیں اونچا کریں اور مَیں تجھے خصوصیت کے ساتھ بچاؤں گا۔ خدائے رحیم کی طرف سے تجھے سلام۔
جاننا چاہئیے کہ خدا کی وحی نے اِس ارادہ کو جو قادیان کے متعلق ہے دو حصوں پر تقسیم کر دیا ہے۔ (۱) ایک وہ ارادہ جو عام طور پر گاؤں کے متعلق ہے اور وہ ارادہ یہ ہے کہ یہ گاؤں اس شدت طاعون سے جو افراتفری اور تباہی ڈالنے والی اور ویران کرنے والی اور تمام گاؤں کو
* درحقیقت ہمارے اس زمانہ نے دنیا کے ہر ایک پہلو میں سہولت کا ایک نیا رنگ ظاہر کر دیا ہے ہر ایک کام کے لئے مشینیں تیار ہو گئی ہیں جس قدر جلدی سے اب ہم کتابیں چھاپ سکتے ہیں اور پھر ہم اُن کو دُور دُور مقامات تک شائع کر سکتے ہیں اور شائع شدہ کتابوں کو دیکھ سکتے ہیں اور ہزارہا اغراض دینی میں صنائع جدیدہ سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں اور تمام دنیا کا سیر کر سکتے ہیں۔ یہ سہولت کامل پہلے کسی نبی یا رسول کو ہرگز نہیں ہوئی۔ مگر ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم اس سے باہر ہیں کیونکہ جو کچھ مجھے دیا گیا وہ اُنہیں کا ہے۔ منہ