تجھؔ پر *** کریں گے اور مَیں تجھ پر برکتیں نازل کروں گا اور وہ تجھ پر باب معیشت تنگ کرنا چاہیں گے اور مَیں تیرے پر تمام نعمتوں کے دروازے کھول دُوں گا اور پھر فرمایا کہ بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔ سو خدا کے زور آور حملوں میں سے یہ طاعون ہے جو ملک میں پھیل گئی اور نہ معلوم کہ کب تک اس کا دور ہے۔ غرض براہین احمدیہ میں آج سے تیئیس ۲۳ برس پہلے اس عذاب کی خبر دی گئی ہے بلکہ صفحہ ۵۱۰ براہین احمدیہ میں یہ بھی وحی الٰہی ہے ولا تخاطبنی فی الذین ظلموا انھم مغرقون۔ یعنی جب عذاب کا وقت آوے تو ظالموں کی میری جناب میں شفاعت مت کر کہ مَیں اُن کو غرق کروں گا۔ اس الہام کا دُوسرا حصہ یہ ہے وَاصْنَعِ الْفُلْکَ بِاَعْیُنِنَا وَوَحْیِنَا۔ یعنی ہمارے حکم اور ہماری آنکھوں کے سامنے کشتی تیار کر۔ کشتی سے مراد سلسلہ بیعت ہے جو خاص وحی الٰہی اور امر الٰہی سے قائم کیا گیا۔اور پھر صفحہ ۵۰۶ براہین احمدیہ میں خدائے تعالیٰ کی طرف سے یہ وحی ہے۔ لم یکن الذین کفروا من اھل الکتاب والمشرکین منفکّین حتّی تاتیھم البیّنۃ و کَان کیدھم عظیمًا اگر خدا ایسا نہ کرتا تو دنیا میں اندھیر پڑ جاتا۔ اس وحی الٰہی سے بھی ثابت ہے کہ دنیا کو شرک اور کفر اور مخلوق پرستی کی عادت ہو گئی تھی اور وہ کسی آسمانی گو شمالی کی محتاج تھی اور اسی وحی کے ساتھ صفحہ ۵۰۷ میں یہ خدا کا کلام ہے تلطف بالنّاس و ترحم علیھم انت فیھم بمنزلۃ موسٰی و اصبر علٰی مایقولون۔ یعنی لوگوں کے ساتھ رفق اور نرمی کر اور اُن پر رحم کر تُو ان میں بمنزلہ موسٰی کے ہے اور اُن کی باتوں پر صبر کر۔ پس اگرچہ حضرت موسیٰ بُردباری اور حلم اور تہذیب اخلاق میں تمام بنی اسرائیل کے نبیوں میں سے اوّل درجہ پر تھے اور توریت خود اُن کے اخلاق فاضلہ کی تعریف کرتی ہے اور ان کواسرائیلی نبیوں میں سے بے نظیر ٹھہراتی ہے لیکن اُن کے کمال حلم کا آخر یہ نتیجہ ہوا کہ جب قوم اسرائیل کے مفسد کسی طرح درست نہ ہوئے تو آخر خدا نے موسیٰ اپنے بندہ کی حیات میں ہی اُن کو طاعون سے ہلاک کیا جیسا کہ توریت میں یہ قصہ موجود ہے سو اِسی کی طرف یہ اشارہ ہے کہ تو موسیٰ کی طرح صبر کر اور آخر ہماری طرف سے