بھیؔ زیادہ مخالف ہمارے سلسلہ میں داخل ہو چکا ہے سو یہی وہ برکتیں ہیں جن سے بموجب پیشگوئی کے بذریعہ طاعون لوگوں نے حصہ لیا ہے۔ اور پھر صفحہ ۵۵۷ میں خدائے عزّو جلّ کا یہ کلام ہے جو ایک عام عذاب کے نازل ہونے کے بارے میں ہے اور وہ یہ ہے۔ مَیں اپنی چمکار دکھلاؤں گا۔ اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اُٹھاؤں گا۔ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زورآور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔ دیکھو صفحہ ۵۷۷ براہین احمدیہ۔ اس وحی مقدس میں خدائے ذوالجلال نے میرا نام نذیر رکھا جو اصطلاح قرآنی میں اس کو کہتے ہیں جس کے ساتھ عذاب بھی آوے اور فرمایا کہ مَیں اپنی چمکار دکھلاؤں گا۔ یعنی ایک خاص قہری تجلّی ظاہرکروں گا۔ خدا کی کتابوں میں چمکار دِکھلانے سے مراد ہمیشہ عذاب ہوا کرتا ہے اور پھر فرمایا کہ اپنی قُدرت نمائی سے تجھ کو اُٹھاؤں گا۔ اِس فقرے کے معنی کی نسبت واضح ہو کہ یُوں تو خدا تعالیٰ کی قُدرتیں ہمیشہ ظاہر ہوتی رہتی ہیں کونسا وقت ہے کہ کوئی قدرت ظاہر نہیں ہوتی۔ مگر اس جگہ قدرت نمائی سے وہ قدرتیں مراد ہیں جو خارق عادت ہیں یعنی عام طور پر وقوع اُن کا نہیں خاص خاص وقتوں میں نشان کے طور پر اُن کا ظہور ہوتا ہے۔ اِس سے بھی یہی اشارہ نکلتا ہے کہ وہ ایک قہری قدرت ہوگی۔ اور یہ جو فرمایا کہ تجھ کو اٹھاؤں گا اس سے یہ مراد نہیں کہ زندہ بجسم عنصری آسمان پر اُٹھا لوں گا۔ یہ گذشتہ لوگوں کی غلطیاں ہیں کہ بعض انسانوں کی نسبت ایسے لفظوں سے یہ معنی نکالتے رہے خدا ان کے قصور معاف کرے بلکہ مراد یہ ہے کہ تیرے مخالف بہت شور ہو گا اور چاہیں گے کہ تحت الثریٰ میں تیری جگہ ہو مگر میں آخرکار ثابت کردوں گا کہ تیرا مقام بلند ہے اور تُو آسمانی لوگوں میں سے ہے نہ زمینی کیڑوں میں سے۔ اور پھر فرمایا کہ دنیا نے اس کو قبول نہ کیا یعنی ردّ کر دیا اور کافر اور دجّال اس کا نام رکھا اور جو چاہا اس کے حق میں کہا مگر مَیں اُن کے مخالف ہو جاؤں گا۔ وہ تیری ذلّت تلاش کریں گے اور مَیں عزّت دوں گا اور وہ تجھے گمنام کرنا چاہیں گے اور مَیں زمین کے کناروں تک تیری شُہرت پھیلا دوں گا اور وہ تجھے جاہل کہیں گے اور مَیں تیرا علم ثابت کروں گا اور وہ