اورؔ اگر کہو کہ اگر تم ہی مسیح موعود ہو اور تمہارے لئے ہی یہ طاعون بطور نشان ظاہر کی گئی ہے تو چاہئیے تھا کہ قبل اس سے جو ملک میں طاعون پھیلتی پہلے ہی خدا تعالیٰ تمہیں خبر دے دیتا کہ طاعون آئے گی؟ اِس کا جواب یہ ہے کہ درحقیقت خدا نے طاعون کی پہلے ہی سے مجھے خبر دی ہے اور یہ ایسی یقینی خبر ہے جس سے کسی کو مسلمانوں عیسائیوں ہندوؤں میں سے انکار نہیں ہو سکتا بلکہ اُس نے نہ ایک دفعہ بلکہ کئی دفعہ خبر دی ہے اور اس کی تفصیل یہ ہے:۔ (۱) اوّل خدائے عزّو جلّنے آج سے تیئیس برس پہلے عام موت کے نشان کی براہین احمدیہ میں مجھے خبر دی جیسا کہ براہین احمدیہ کے صفحہ پانچ سو اٹھارہ میں یہ خدائے عزّو جلّ کا کلام بطور پیشگوئی ہے وقالوا انّٰی لک ھٰذا ان ھٰذا الا سحر یؤثر۔ لن نؤمن لک حتّٰی نری اﷲ جھرۃ۔ لایصدق السفیہ الاسیفۃ الھلاک۔ عدولی و عدولک ۔ قل اَتٰی امر اﷲ فلا تستعجلوہ۔ اذاجاء نصر اﷲ الست بربکم قالوابلٰی۔ ترجمہ ۔ اور کہیں گے کہ یہ مرتبہ تجھے کیسے مل سکتا ہے یہ تو ایک مکر ہے جو اختیار کیا جاتا ہے۔ ہم ہرگز تجھ پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک خدا کو آشکارا طور پر نہ دیکھ لیں۔ سفیہ آدمی بجز مَوت کے نشان کے کسی نشان کو نہ مانیں گے کیونکہ وہ میرے دشمن اور تمہارے بھی دشمن ہیں انہیں کہہ کہ موت کا نشان بھی آنے والا ہے یعنی طاعون مگر کچھ دیر سے سو تم جلدی مت کرو۔ پھر اس کے ساتھ ہی صفحہ ۵۱۹ میں یہ الہام درج ہے امراض الناس وبرکاتہ یعنی لوگوں میں مرض پھیلے گی اور اس کے ساتھ ہی خدا کی برکتیں نازل ہوں گی اور وہ اِس طرح پر کہ وہ بعض کو نشان کے طور پر اس بلا سے محفوظ رکھے گا اور دُوسرے یہ کہ یہ بیماریاں جو آئیں گی یہ دینی برکات کا موجب ہو جائیں گی اور بہتیرے لوگ اُن خوفناک دِنوں میں دینی برکات سے حِصّہ لیں گے اور سلسلہ حقّہ میں داخل ہو جائیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور طاعون کا خوفناک نظارہ دیکھ کر بڑے بڑے متعصّب اِس سلسلہ میں داخل ہو گئے ہیں اور اس وقت تک بذریعہ طاعون دو ہزار سے