اورؔ پھر بعد اس کے لکھا ہے کہ یہ بھی اس کے ظہور کی ایک نشانی ہے کہ قبل اس کے کہ قائم ہو یعنی عام طورپر قبول کیا جائے دنیا میں سخت طاعون پڑے گی یہاں تک کہ ایک گھر میں جو سات آدمی ہوں گے اُن میں سے صرف دو۲ رہ جائیں گے اور پانچ مر جائیں گے۔ پس اس کی اس عبارت سے ظاہر ہے کہ یہ دونوں نشان اُس وقت ظہور میںآئیں گے جبکہ اس کی دنیا میں تکذیب ہوگی۔ کیونکہ مسیح کے بھی یہ دونوں نشان تھے جبکہ عیسیٰ علیہ السلام کی تکذیب ہو کر اُن کے لئے صلیب تیار کیا گیا تھا تب آفتاب و ماہتاب دونوں تاریک ہو گئے تھے اور طاعون بھی پڑی تھی۔ غرض اس کتاب میں لکھا ہے کہ رمضان میں خسوف کسوف ہونا اور ملک میں طاعون پھیلنا مہدی معہود کا ایک معجزہ ہو گا۔ پس بلاشبہ یہ امر تواتر کے درجہ پر پہنچ چکا ہے کہ مسیح موعود کے نشانوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس کے وقت میں اور اس کی توجہ اور دُعا سے ملک میں طاعون پھیلے گی آسمان اس کے لئے چاند اور سُورج کو رمضان میں تاریک کرے گا اور زمین اُس کے لئے طاعون کی تاریکی اور مصیبت پھیلائے گی کیونکہ وہ ابتدا میں قبول نہیں کیا جائے گا اس لئے انذاری نشان اُس کے لئے ظاہر ہوں گے اور اُس کے نفس سے یعنی توجہ اور دُعا اور اتمام حجت سے کافر مریں گے۔* اور وہ مرنا دو قسم کا ہو گا (۱) ایک تو رُوحانی طور پر کہ اس کے وقت میں تمام مذاہب بجُز اسلاممُردہ ہو جائیں گے (۲) دوسرے جسمانی طور پر۔ چونکہ وہ ستایا جائے گا اور دکھ دیا جائے گا اس لئے خدا کا غضب مخلوق پر بھڑکے گا۔ تب وہ ایسی موتوں کا سلسلہ جاری کر دے گا کہ نمونہ قیامت ہو جائیں گی۔ تب انجام کار لوگ سوچیں گے کہ کیوں یہ آفتیں ہم پر پڑ گئیں اور سعیدوں کا راہ دِکھلایا جائے گا۔ غرض عام موتوں کا پڑنا مسیح موعود کی علامات خاصہ میں سے ہے اور تمام انبیاء علیہم السلام گواہی دیتے آئے ہیں۔
* حاشیہ : یہ عجیب مشابہت ہے کہ حضرت عیسیٰ کے وقت میں بھی بباعث سخت آندھی کے سُورج اور چاند کی روشنی روزہ کے دن میں یکدفعہ جاتی رہی تھی اور پھر زمین پر طاعون بھی پڑی یہ دونوں باتیں اب بھی ظہور میں آ گئیں۔ یعنی بذریعہ خسوف کسوف رمضان میں تاریکی بھی ہو گئی جیسا کہ یہود کے روزہ کے دن تاریکی ہو گئی تھی اور پھر طاعون سے بھی دنیا تباہ ہو گئی۔ منہ