سےؔ خواہ کسی اور سبب سے وہ سب انسانی برداشت کی حد تک اُس میں ہو سکتی ہیں کیونکہ وہ اس مامُور کی کارروائی کی حارج نہیں ہیں۔ پس جس الہام کو ہم نے قادیان کے بارے میں شائع کیا ہے اس کا یہی مطلب ہے اس سے زیادہ نہیں۔ بعض آدمی یہ اعتراض پیش کرتے ہیں کہ مسیح موعود کے وقت میں امن اور آسائش کا زمانہ ہونا چاہئیے تھا نہ کہ طاعون ملک میں پھیلے اور قحط پڑے اور طرح طرح کے اسباب سے کثرت موت ہو۔ اِن اوہام باطلہ کا یہ جواب ہے کہ انسان کا اختیار نہیں ہے کہ اپنی طرف سے حکم چلاوے کہ یُوں ہونا چاہئیے تھا اور اِس طرح ہونا چاہئیے تھا۔ خدا تعالیٰ کی کتابوں میں بہت تصریح سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ مسیح موعود کے زما نہ میں ضرور طاعون پڑے گی اور اِس مَرِی کا انجیل میں بھی ذکر ہے اور قرآن شریف میں بھی اﷲ تعالیٰ فرماتا ہےالخ ۱؂ یعنی کوئی بستی ایسی نہیں ہو گی جس کو ہم کچھ مدت پہلے قیامت سے یعنی آخری زمانہ میں جو مسیح موعود کا زمانہ ہے ہلاک نہ کر دیں یا عذاب میں مبتلا نہ کریں۔ یاد رہے کہ اہلِ سنّت کی صحیح مُسلم اور دُوسری کتابوں اور شیعہ کی کتاب اکمال الدین میں بتصریح لکھا ہے کہ مسیح موعود کے وقت میں طاعون پڑے گی بلکہ اکمال الدین جو شیعہ کی بہت معتبر کتاب ہے اُس کے صفحہ ۳۴۸ میں اوّل چار حدیثیں کسوف خسوف کے بارہ میں لایا ہے اور امام باقر سے روایت کرتا ہے کہ مہدی کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ قبل اس کے کہ وہ قائم ہو یعنی عام طور قبول کیا جاوے رمضان میں کسوف خسوف ہو گا*۔ * حاشیہ : حضرت مسیح بروز جمعہ بوقت عصر صلیب پر چڑھائے گئے تھے جب وہ چند گھنٹہ کیلوں کی تکلیف اُٹھا کر بیہوش ہو گئے اور خیال کیا گیا کہ مر گئے تو یکدفعہ سخت آندھی اُٹھی اور اس سے سُورج اور چاند دونوں کی روشنی جاتی رہی اور تاریکی ہو گئی۔ وہ دسویں محرّم تھی اور اُس دن یہود کو روزہ تھا اور دُوسرے دن ان کی عید فسح تھی اُن بزرگوں نے عین روزہ کی حالت میں اپنی دانست میں یہ ثواب کا کام کیا مطلب یہ تھا کہ حضرت مسیح کو کسی طرح *** ثابت کریں۔ ایسا ہی مسیح موعود پر جب کفر اور قتل کا فتویٰ لگایا گیا تو اس کے بعد رمضان میں کسوف خسوف ہوا تا دونوں واقعات میں مشابہت ہو کیونکہ جس طرح عیسیٰ مسیح استعارہ کے رنگ میں مُردوں میں سے جی اُٹھا اسی طرح اس مسیح کو تکفیر کی دو سو ۲۰۰ مہر سے اپنی دانست میں ہلاک کر دیا گیا تھا مگر پھر وہ جی اُٹھا اور کھڑا ہو گیا۔ اس لئے امام قائم کہلایا ۔ منہ