تو اِؔ س صورت میں ظاہر ہے کہ یہ جماعت جو قادیان میں بیٹھی ہے وہ سب مع اِن کے امام کے تباہ ہوں گے اور سب طاعون سے مریں گے اور یہ خدا کو منظور نہیں کیونکہ یہ اس کی قوم ہے جو اس نے طیار کی ہے۔ اوریہ جو بھیجا گیا ہے یہ اُس کے ہاتھ کا پودہ لگایا ہوا ہے۔ پس کیونکر وہ اپنے باغ کو خود کاٹ دیوے جو اُس نے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے۔ پس اس لئے اور اسی غرض سے تمام گاؤں کو تخفیف عذاب کی رعایت دی گئی ہے یہ ایسی ہی مثال ہے کہ مثلاً ایک جہاز میں ایک خدا کا برگزیدہ سوار ہو۔ تا وہ کسی ملک میں جا کر تبلیغ کرے اور اِس حالت میں سمندر میں طوفان آوے۔ پس سنت اﷲ کے موافق یہ ضروری امر ہے کہ اس جہاز میں بہت سے ایسے لوگ سوار ہوں کہ جو غرق کرنے کے لائق ہوں مگر وہ اس شخص کے لئے غرق نہیں کئے جاویں گے کیونکہ اُن کے غرق ہونے سے اس برگزیدہ پر بھی صدمہ آتا ہے اور یہ خدا کو منظور نہیں۔ یاد رہے کہ معمولی حد تک موتیں ایک محفوظ جہاز میں بھی ہو جاتی ہیں۔ مگر وہ جہاز کے مسافروں کی بے امنی کو اس حد تک نہیں پہنچاتیں کہ وہ بے حواس ہو کر جہاز پر سے کُود پڑیں اور سب ایک زبان سے ہائے وائے کے نعرے نکالیں۔ مگر یہ خوفناک موتیں جو جہاز کسی ٹھوکر سے یکدفعہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے اور اس میں بیٹھنے والے بیکبارگی پانی میں بہ جائیں اور سمندر کی لہریں ان کو ڈھانک لیں یہ عظیم حادثہ ہے اور ایسا مُہلک حادثہ کبھی اس حالت میں نہیں ہوتا جبکہ ایسے جہاز میں خدا کا کوئی نبی اور رسول اور برگزیدہ بیٹھا ہو بلکہ اس کے طفیل اور اس کی شفاعت سے دوسرے لوگ بھی کنارہ پر سلامت پہنچائے جاتے ہیں تا خدا کا ایک کامل بندہ جو خدا کے جلال کے لئے سفر کر رہا ہے اس تشویش اور تباہی میں شریک نہ ہو اور تا وہ کام معطل نہ رہ جائے جس کام کے لئے اس نے سفر کیا ہے۔ اسی سنت اﷲ کے موافق قادیان کے لئے انّہ اوی القریۃ کا الہام صادر ہوا تا خدا کے کاموں میں حرج نہ ہو ورنہ قادیان سب سے پہلے فنا کرنے کے لائق تھی کیونکہ یہ لوگ نزدیک ہو کر پھر دُور ہیں اور بہتوں کا خدا پر ایمان نہیں اور نہ چاہتے ہیں کہ اپنا ناپاک چولہ اتار کر حق کو قبول کریں۔ غرض یہ سنت اﷲ ہے کہ جس گاؤں یا شہر میں خدا کا کوئی فرستادہ نازل ہو تو وہ گاؤں یا شہر نہ تو طاعون سے تباہ اور ہلاک ہوتا ہے اور نہ کسی اوروبا سے اور نہ کسی آتش فشاں پہاڑ سے ہلاک کیا جاتاہے۔ ہاں معمولی موتیں خواہ طاعون سے ہوں خواہ ہیضہ