نہیںؔ سُنتے اور سمجھتے ہوئے نہیں سمجھتے۔ اُن میں سے جُھوٹ بولنے کا سرغنہ پیسہ اخبار کا ایڈیٹر ہے جو بارہا دروغگوئی کی رسوائی اُٹھا چکا ہے اور پھر باز نہیں آتا۔ وہ میری نسبت آپ ہی اقرار کرتا ہے کہ انہوں نے قادیان کے بارے میں صرف اِس قدر الہام شائع کیا ہے کہ اس میں تباہی ڈالنے والی طاعون نہیں آئے گی ہاں اگر کچھ کیس ہو جائیں جو موجب افراتفری نہ ہوں تو یہ ہو سکتا ہے اور پھر اپنے دوسرے پرچوں میں فریاد پر فریاد کر رہا ہے کہ قادیان میں طاعون آ گئی۔ اگر اس کی فطرت کو ایمانداری اور انصاف اور شرم میں سے کچھ حصہ ہوتا تو اس فضول بحث کا نام ہی نہ لیتا۔ کیونکہ اگر قادیان میں بباعث عام بخار کے جو موسمی تھا دو تین آدمی مر بھی گئے تو کس ڈاکٹر نے تصدیق کی تھی کہ وہ طاعون ہے۔ کیا قادیان کے احمق اور جاہل اور کمینہ طبع بعض آریہ یا اور کوئی اُن کا ہم مادہ جو حق اور سچائی سے دِلی کینہ رکھتے ہیں اور اُن کی کھوپری میں یہ عقل ہی نہیں جو طاعون کس کو کہتے ہیں اُن کی شرارت آمیز کسی تحریر سے یہ ثابت ہو گیا جو قادیان میں طاعون پھوٹ پڑی اُن کے ایمان اور دیانت پر خود طاعون کا پھوڑا نکلا ہوا ہے جس سے جان بری مشکل ہے۔ ماسوا اِس کے اگر اڈیٹر پیسہ اخبار کو دیانت اور سچائی سے کچھ غرض ہوتی تو اس کو ثابت کرنا چاہئیے تھا کہ کس طرح اشتہار یا رسالہ میں ہم نے یہ بھی لکھا ہے کہ قادیان میں کبھی طاعون نہیںآئے گی اور کبھی ایک کیس بھی نہ ہو گا بلکہ رسالہ دافع البلاء جو پانچ ہزار شائع کیا گیا ہے اس کے صفحہ ۵ کے حاشیہ میں بتصریح تمام یہ عبارتیں لکھی گئی ہیں اور وہ یہ ہیں:۔
طاعون کی قسموں میں سے وہ طاعون سخت بربادی بخش ہے جس کا نام طاعون جارف ہے یعنی جھاڑو دینے والی جس سے لوگ جابجا بھاگتے ہیں اور کتوں کی طرح مرتے ہیں یہ حالت انسانی برداشت سے بڑھ جاتی ہے (اور کم سے کم آبادی کا ایک عشر لیتی ہے ورنہ نصف تک یا تین حصّے پانچ حصّوں میں سے کھا جاتی ہے) پس اس کلام الٰہی میں یہ وعدہ ہے کہ یہ حالت کبھی قادیان پر وارد نہیں ہو گی۔ اسی کی تشریح دُوسرا الہام کرتا ہے لولا الاکرام لھلک المقام یعنی اگر مجھے اِس سلسلہ کی عزّت ملحوظ نہ ہوتی تو مَیں قادیان کو بھی ہلاک کر دیتا۔ اِس الہام سے دو باتیں سمجھی جاتی ہیں (۱) اوّل یہ کہ کچھ حرج نہیں کہ انسانی برداشت کی حد تک کبھی قادیان میں کوئی واردات شاذو نادر طو رپر ہو جائے جو بربادی بخش نہ ہو اور موجب