کردؔ ے گا۔ یہ بات ہر ایک راستباز کے نزدیک مسلّم ہے کہ دو گروہ خدا تعالیٰ کے نزدیک ضرور *** زندگی رکھتے ہیں۔ (۱) اوّل وہ شخص اور اُس کی جماعت جو خدا تعالیٰ پر افترا کرتے ہیں اور جھوٹ اور دجّالی طریق سے دنیا میں فساد اور پُھوٹ ڈالنا چاہتے ہیں۔ (۲) دُوسرے وہ گروہ جو ایک سچّے منجانب اﷲ کی تکذیب اور تحقیر کرتے ہیں۔ اس کا زمانہ پاتے ہیں اُس کے نشان دیکھتے ہیں اور اُس کی حجت کو اپنے پر سے اُٹھا نہیں سکتے مگر پھر بھی اُس کو ایذا دینے کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں اور ہر ایک پہلو سے کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح اُس کو نابود کر دیں۔ اب اس بات کا خدا سے بڑھ کر کس کو علم ہے کہ یہ دو گروہ جو اس وقت موجود ہیں یعنی مَیں اور میرے وہ مخالف جو مجھے گالیاں دیتے اور ہر ایک طور سے دُکھ پہنچاتے ہیں اور میری موت چاہتے ہیں۔ اِن دونوں گروہوں میں سے وہ گروہ کون ہے جس کی *** زندگی ہے اور وہ گروہ کون ہے جس کو بہت برکتیں دی جائیں گی۔ اِس راز کو بُجز خدا کوئی نجومی نہیں جانتا نہ رمّال اور نہ کوئی قیافہ سے کام لینے والا۔ یہ راز میرے خدائے قادر کاایک سربستہ راز ہے۔ اسی راز کے انکشاف پر سب فیصلے ہو جائیں گے۔ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔ پر اگر وہ خدا کی طرف سے ہے تو کیا خدا اس کو چھوڑ دے گا نہیں بلکہ وہ دن نزدیک ہیں جو خدا اپنے زبردست حملوں سے اُس کی سچائی ثابت کر دے گا۔ جہنم کے عذابوں میں سے کوئی عذاب حسرت جیسا نہیں۔ وہ حسرت جو سچے کے ردّ کرنے میں ہوتی ہے اور وقت گذر جاتا ہے۔ لیکن اب جس امر کے لکھنے کے لئے ہم نے ارادہ کیا ہے وہ یہ ہے کہ ہمارا رسالہ دافع البلاء جو طاعون کے بارے میں شائع ہوا تھا اس کے مقابل پر ہمارے ظالم طبع مخالفوں نے طرح طرح کے افتراؤں سے کام لیا ہے اور اس قدر جھوٹ کی نجاست کھائی ہے کہ کوئی نجاست خور جانور اس کا مقابلہ نہیں کر سکے گا ہمیں تعجب ہے کہ کہاں تک ان لوگوں کی نوبت پہنچ گئی کہ وہ دیکھتے ہوئے نہیں دیکھتے اور سُنتے ہوئے