فرارؔ و انتشار نہ ہو کیونکہ شاذ و نادر معدوم کا حکم رکھتا ہے (۲) دوسرے یہ امر ضروری ہے کہ جن دیہات اور شہروں میں بمقابلہ قادیان کے سخت سرکش اور شریر اور ظالم اور بدچلن اور مفسد اور اس سلسلہ کے خطرناک دشمن رہتے ہیں اُن کے شہروں اور دیہات میں ضرور بربادی بخش طاعون پُھوٹ پڑے گی (اگر توبہ نہ کریں) اور یہاں تک ہو گا کہ لوگ بے حواس ہو کر ہر طرف بھاگیں گے۔ اور ہم دعویٰ سے لکھتے ہیں کہ قادیان میں کبھی طاعون جارف نہیں پڑے گی جو گاؤں کو ویران کرنے والی اور کھا جانے والی ہوتی ہے مگر اس کے مقابل پر دُوسرے شہروں اور دیہات میں جو ظالم اور مفسد ہیں ضرور ہولناک صورتیں پیدا ہوں گی (اگر توبہ نہ کریں) تمام دنیا میں ایک قادیان ہی ہے جس کے لئے ’’اب یہ وعدہ ہوا گو پہلے سے حرم رسول کے لئے بھی ایک وعدہ ہے۔‘‘ یہ عبارت ہے جو صفحہ مذکور میں درج ہے جس کو ہم نے لفظ بلفظ اس جگہ نقل کر دیا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ ہمارا ہرگز یہ دعویٰ نہ تھا کہ قادیان طاعون سے بالکل محفوظ رہے گی۔ ہم نے عام لوگوں کے سامنے یہ عبارت جو دافع البلاء میں شائع ہو چکی ہے رکھ دی ہے تا خود لوگ پڑھ لیں اور پھر انصافاً بتلاویں کہ ہمارے پر یہ الزام کہ گویا ہم نے اس رسالہ میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ قادیان کے نزدیک طاعون نہیں آئے گی اور ایک بھی کیس نہیں ہو گا۔ کیا یہ ایمانداری ہے یا بے ایمانی؟ ہم خود منتظر ہیں کہ اس وحی اﷲ کے مطابق قادیان میں صاف اور صریح طور پر بعض کیس طاعون ہوں لیکن اب تک جوکچھ پیسہ اخبار اور بعض دُوسرے جلدباز اڈیٹروں نے لکھا ہے کہ قادیان میں سات۷ کیس ہو چکے ہیں وہ تحریریں صرف تین قسم کے واقعات کا مجموعہ ہیں۔ (۱) اوّل ایسی تحریریں جو محض جھوٹ اور افتراہیںیعنی ایسے لوگوں کی نسبت خواہ نخواہ جھوٹی خبریں موت کی شائع کی گئی ہیں جو اب تک زندہ موجود ہیں۔ نہ وہ بیمار ہوئے نہ اُن کو طاعون ہوئی۔ یہ اوّل درجہ کا جھوٹ ہے جس کے ارتکاب سے پیسہ اخبار نے بے ایمانی کا بڑا حصہ لیا ہے اور ناحق شریف اور عزیز لوگوں کا دِل دُکھایا ہے۔ اُس کو سوچنا چاہئیے کہ اگر یہ خلاف واقعہ خبر اُس کے عزیزوں تک پہنچائی جائے کہ محبوب عالم ایڈیٹر پیسہ اخبار طاعون سے مر گیا تو کیا ان کو کچھ صدمہ پہنچے گا یا نہیں تو پھر وہ جواب دے کہ ایسا جھوٹ اُس نے کیوں بولا اور کس غرض سے بولا اور کیوں خلاف گوئی کی نجاست کھا کر شریف اور معزز لوگوں کو دُکھ دیا۔ کیا یہ *** زندگی نہیں کہ ناحق