قریب ؔ بیعت کرنے والوں کا شمار پہنچ گیا ہے کہ جو نہ میری کوشش سے بلکہ اُس ہَوا کی تحریک سے جو آسمان سے چلی ہے میری طرف دَوڑے ہیں۔ اور اب یہ لوگ خود سوچ لیں کہ اس سلسلہ کے برباد کرنے کے لئے کس قدر انہوں نے زور لگائے اور کیا کچھ ہزار جان کاہی آئندہ نسلوں کی گذشتہ لوگوں سے مشابہتیں ظاہر ہو جائیں گی۔ چنانچہ بعینہٖ یہودیوں کی طرح یہودی پَیدا ہو جائیں گے اور ایسا ہی نبیوں کا کامل نمونہ بھی ظاہر ہو گا۔ اسی کی طرف سورۃ الانبیاء جزو نمبر ۱۷ میں اشارہ ہے جیسا کہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے ۱؂ ان آیات کا یہ منشاء ہے کہ جو لوگ ہلاک کئے گئے اور دنیا سے اُٹھائے گئے اُن پر حرام ہے کہ پھر دنیا میں آویں بلکہ جو گئے سو گئے۔ ہاں یاجوج و ماجوج کے وقت میں ایک طور سے رجعت ہو گی یعنی گذشتہ لوگ جو مر چکے ہیں، اُن کے ساتھ اس زمانہ کے لوگ ایسی اتم اور اکمل مشابہت پیدا کر لیں گے کہ گویا وہی آ گئے۔ اسی بناء پر اس زمانہ کے علماء کا نام یہود رکھا گیا اور محمدی مسیح کا نام ابن مریم رکھا گیا اور پھر اُسی خاتم الخلفاء کا نام باعتبار ظہور بیّن صفات محمدیہ کے محمّد اور احمد رکھا گیا اور مستعار طور پر رسول اور نبی کہا گیا اور اُسی کو آدم سے لے کر اخیر تک تمام انبیاء کے نام دیئے گئے تا وعدۂ رجعت پورا ہو جائے۔ یہ ایک باریک دقیقہ معرفت ہے اور ابھی ہم لکھ چکے ہیں کہ سورۃ فاتحہ سے بھی التزامی طور پر یہ بات نکلتی ہے کہ مسلمانوں میں سے منعم علیہم بھی انبیاء گذشتہ کی طرح ہوں گے اور نیز مغضوب علیہم بھی یعنی یہودی ہوں گے غرض تمام نبیوں کے نزدیک زمانہ یاجوج وماجوج زمان الرجعت کہلاتا ہے یعنی رَجعت برُوزی نہ رجعت حقیقی۔ اگر رجعت حقیقی ہو تو پھر سب میں حقیقی چاہئیے نہ صرف حضرت عیسیٰ میں۔ کیا وجہ کہ ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی رجعت تو بروزی طور پر مہدی کے لباس میں ہو اور عیسیٰ کی رجعت واقعی طو رپر۔ شیعہ کو یہ دھوکا لگا ہے کہ انہوں نے اس زمانہ کو رجعت حقیقی کا زمانہ