کےؔ ساتھ ہر ایک قسم کے مکر کئے یہاں تک کہ حکّام تک جھوٹی مخبریاں بھی کیں خون کے جُھوٹے مقدموں کے گواہ بن کر عدالتوں میں گئے اور تمام مسلمانوں کو میرے پر ایک عام جوش دلایا اور ہزار ہا اشتہار اور رسالے لکھے اور کفر اور قتل کے فتوے میری نسبت دئے۔ اور مخالفانہ منصوبوں کے لئے کمیٹیاں کیں۔ مگر ان تمام کوششوں کا نتیجہ بجز نامرادی کے اور کیا ہوا۔ پس اگر یہ کاروبار انسان کا ہوتا تو ضرور اُن کی جان توڑ کوششوں سے یہ تمام سلسلہ تباہ ہو جاتا۔ کیا کوئی نظیر دے سکتا ہے کہ اس قدر کوششیں کسی جھوٹے کی نسبت کی گئیں اور پھر وہ تباہ نہ ہوا بلکہ پہلے سے ہزار چند ترقی کر گیا۔ پس کیا یہ عظیم الشان نشان نہیں کہ کوششیں تو اس غرض سے کی گئیں کہ یہ تخم جو بویا گیا ہے اندر ہی اندر نابود ہو جائے اور صفحۂ ہستی پر اس کا نام و نشان نہ رہے مگر وہ تخم بڑھا اور پُھولا اور ایک درخت بنا اور اس کی شاخیں دُور دُور چلی گئیں اور اب وہ درخت اِس قدر بڑھ گیا ہے کہ ہزار ہا پرند اس پر آرام کر رہے ہیں۔ اور اس نشان کے ساتھ ایک عظیم الشان نشان یہ ہے کہ آج سے تیئیس برس پہلے براہین احمدیہ میں یہ الہام موجود ہے کہ لوگ کوشش کریں گے کہ اس سلسلہ کو مٹا دیں اور ہر ایک مکر کام میں لائیں گے مگر مَیں اس سلسلہ کو بڑھاؤں گا اور کامل خیال کر لیا۔ مگر یہ ان کی غلطی ہے۔ حدیثوں سے صاف طور پر یہ بات نکلتی ہے کہ آخری زمانہ میں حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم بھی دنیا میں ظاہر ہوں گے اور حضرت مسیح بھی مگر دونوں بروزی طور پر آئیں گے نہ حقیقی طور پر۔ یہ بھی لکھا ہے کہ مسیح کے مقابل پر یہودی بھی جوش و خروش کریں گے مگر وہ یہودی بھی بروزی ہیں نہ حقیقی۔ قدیم سے حدیثوں میں یہ تشریح ہے کہ انہی مولویوں کا نام اُس وقت یہودی رکھا جائے گا اور درحقیقت سورۃ فاتحہ نے بکمال صفائی یہ پیشگوئی کر دی ہے کیونکہ سورہ فاتحہ میں یہ دُعا سکھلائی گئی کہ ایسا نہ ہو کہ ہم وہ یہودی بن جائیں جو عیسیٰ علیہ السلام کے دشمن تھے ۔ پس مسلمان لوگ ایسے یہودی کیونکر بن سکتے ہیں جب تک اُن میں بروزی طور پر مسیح موعود پیدا نہ ہو اور اُس کی مخالفت نہ کریں۔ منہ