جسؔ زمانہ میں ان مولویوں اور اُن کے چیلوں نے میرے پر تکذیب اور بدزبانی کے حملے شروع کئے اُس زمانہ میں میری بیعت میں ایک آدمی بھی نہیں تھا۔ گو چند دوست جو انگلیوں پر شمار ہو سکتے تھے میرے ساتھ تھے۔ اور اِس وقت خدا تعالیٰ کے فضل سے ستر ہزار کے ٹھہرایا ہے اور پھر دونوں سلسلوں کا تقابل پُورا کرنے کے لئے یہ ضروری تھا کہ موسوی مسیح کے مقابل پر محمدی مسیح بھی شانِ نبوت کے ساتھ آوے تا اس نبوت عالیہ کی کسر شان نہ ہو اس لئے خدا تعالیٰ نے میرے وجود کو ایک کامل ظلّیت کے ساتھ پیدا کیا اور ظلّی طور پر نبوت محمدی اس میں رکھ دی تا ایک معنی سے مجھ پر نبی اﷲ کا لفظ صادق آوے اور دوسرے معنوں سے ختم نبوت محفوظ رہے۔ اس جگہ یہ بھی یاد رہے کہ خدائے حکیم علیم نے وضع دنیا دوری رکھی ہے یعنی بعض نفوس بعض کے مشابہ ہوتے ہیں نیک نیکوں کے مشابہ اور بد بدوں کے مشابہ مگر باایں ہمہ یہ امر مخفی ہوتا ہے اور زور شور سے ظاہر نہیں ہوتا۔ لیکن آخری زمانہ کے لئے خدا نے مقرر کیا ہوا تھا کہ وہ ایک عام رَجعت کا زمانہ ہو گا تا یہ اُمت مرحومہ دُ وسری اُمتوں سے کسی بات میں کم نہ ہو۔ پس اُس نے مجھے پیدا کرکے ہر ایک گذشتہ نبی سے مجھے اُس نے تشبیہ دی کہ وہی میرا نام رکھ دیا۔ چنانچہ آدم، ابراہیم، نوح، موسیٰ، داؤد، سلیمان، یوسف، یحییٰ، عیسیٰ وغیرہ یہ تمام نام براہین احمدیہ میں میرے رکھے گئے اور اس صورت میں گویا تمام انبیاء گذشتہ اس اُمت میں دوبارہ پیدا ہو گئے یہاں تک کہ سب کے آخر مسیح پیدا ہو گیا اور جومیرے مخالف تھے اُن کا نام عیسائی اور یہودی اور مشرک رکھا گیا چنانچہ قرآن شریف میں اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے اور فرماتا ہے ۱؂ پس یہ آیت صاف کہہ رہی ہے کہ اس اُمّت کے بعض افراد کو گذشتہ نبیوں کا کمال دیا جائے گا اور نیز یہ کہ گذشتہ کفّار کی عادات بھی بعض منکروں کو دی جائیں گی اور بڑی شد و مد سے