کا ناؔ م * پاکر اور اُسی میں ہو کر اور اُسی کا مظہر بن کر آیا ہوں۔ اِس لئے مَیں کہتا ہوں کہ جیسا کہ قدیم سے یعنی آدم کے زمانہ سے لے کر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم تک ہمیشہ مفہوم اس آیت کا سچا نکلتا آیا ہے ایسا ہی اب بھی میرے حق میں سچا نکلے گا۔ کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ * یہ قول اس حدیث کے مطابق ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آنے والا مہدی اور مسیح موعود میرا اسم پائے گا اور کوئی نیا اسم نہیں لائے گا یعنی اس کی طرف سے کوئی نیا دعویٰ نبوت اور رسالت کا نہیں ہو گا بلکہ جیسا کہ ابتدا سے قرار پا چکا ہے وہ محمدی نبوت کی چادر کو ہی ظلّی طو رپر اپنے پر لے گا اور اپنی زندگی اُسی کے نام پر ظاہر کرے گا اورمرکر بھی اُسی کی قبر میں جائے گا تا یہ خیال نہ ہو کہ کوئی علیحدہ وجود ہے اور یا علیحدہ رسول آیا بلکہ بروزی طور پر وہی آیا جو خاتم الانبیاء تھا۔ مگر ظلّی طور پر اسی رازکے لئے کہا گیا کہ مسیح موعود آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی قبر میں دفن کیا جائے گا کیونکہ رنگِ دوئی اس میں نہیں آیا پھر کیونکر علیحدہ قبر میں تصور کیا جائے۔ دنیا اس نکتہ کو نہیں پہچانتی۔ اگر اہلِ دنیا اس بات کو جانتے کہ اس کے کیا معنی ہیں کہ اِسْمُہٗ کَاِسْمِیْ وَیُدْفَنُ مَعِی فِی قَبْرِیْ تو وہ شوخیاں نہ کرتے اور ایمان لاتے۔ اِس نکتہ کو یاد رکھو کہ مَیں رسول اور نبی نہیں ہوں۔ یعنی باعتبار نئی شریعت اور نئے دعوے اور نئے نام کے۔ اور مَیں رسول اور نبی ہوں یعنی باعتبار ظلیت کاملہ کے مَیں وہ آئینہ ہوں جس میں محمدی شکل اور محمدی نبوت کا کامل انعکاس ہے۔ اگر مَیں کوئی علیحدہ شخص نبوت کا دعویٰ کرنے والا ہوتا تو خدا تعالیٰ میرا نام محمد اور احمد اور مصطفےٰ اور مجتبیٰ نہ رکھتا اور نہ خاتم الانبیاء کی طرح خاتم الاولیاء کا مجھ کو خطاب دیا جاتا بلکہ مَیں کسی علیحدہ نام سے آتا۔ لیکن خدا تعالیٰ نے ہر ایک بات میں وجودِ محمدی میں مجھے داخل کر دیا یہاں تک کہ یہ بھی نہ چاہا کہ یہ کہا جائے کہ میرا کوئی الگ نام ہو یا کوئی الگ قبر ہو کیونکہ ظل اپنے اصل سے الگ ہو ہی نہیں سکتا اور ایسا کیوں کہا گیا اس میں راز یہ ہے کہ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو اُس نے خاتم الانبیاء