شروؔ ع کرکے حرف یا تک پہنچا دیا تھا یعنی ابوبکر سے یزید تک مگر یہ لوگ جو اہل حدیث اور حنفی کہلاتے ہیں انہوں نے اس کارروائی کو ناکامل سمجھ کر *** بازی کے دائرے کو اس طرح پر پورا کیا کہ جس شخص کو خدا نے آدم سے لے کر یسوع مسیح تک مظہر جمیع انبیاء قرار دیا تھا یعنی الف سے حرف یا تک اور پھر تکمیل دائرہ کی غرض سے الف آدم سے لے کر الف احمد تک صفت مظہریت کا خاتم بنایا تھا اُسی پر لعنتوں کی مشق کی۔
۱
لیکن یاد رکھیں کہ یہ گالیاں جو اُن کے مُنہ سے نکلتی ہیں اور یہ تحقیر اور یہ توہین کی باتیں جو اُن کے ہونٹھوں پر چڑھ رہی ہیں اور یہ گندے کاغذ جو حق کے مقابل پر وہ شائع کر رہے ہیں یہ اُن کے لئے ایک رُوحانی عذاب کا سامان ہے جس کو اُنہوں نے اپنے ہاتھوں سے طیار کیا ہے۔ دروغگوئی کی زندگی جیسی کوئی *** زندگی نہیں۔ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ اپنے منصوبوں سے اور اپنے بے بنیاد جھوٹوں سے اور اپنے افتراؤں سے اور اپنی ہنسی ٹھٹھے سے خدا کے ارادے کو روک دیں گے یا دنیا کو دھوکہ دے کر اس کام کو معرض التوا میں ڈال دیں گے جس کا خدا نے آسمان پر ارادہ کیا ہے۔ اگر کبھی پہلے بھی حق کے مخالفوں کو اِن طریقوں سے کامیابی ہوئی ہے تو وہ بھی کامیاب ہو جائیں گے۔ لیکن اگر یہ ثابت شدہ امر ہے کہ خدا کے مخالف اور اُس کے ارادہ کے مخالف جو آسمان پر کیا گیا ہو ہمیشہ ذلّت اور شکست اُٹھاتے ہیں تو پھر ان لوگوں کے لئے بھی ایک دن ناکامی اور نامرادی اور رُسوائی درپیش ہے خدا کا فرمودہ کبھی خطا نہیں گیا اور نہ جائے گا۔ وہ فرماتاہے:۔
۲
یعنی خدا نے ابتداء سے لکھ چھوڑا ہے اور اپنا قانون اور اپنی سنّت قرار دے دیا ہے کہ وہ اور اُس کے رسول ہمیشہ غالب رہیں گے۔ پس چونکہ مَیں اُس کا رسول یعنی فرستادہ ہوں مگر بغیر کسی نئی شریعت اور نئے دعوے اور نئے نام کے بلکہ اُسی نبی کریم خاتم الانبیاء