دو باتیں کیں اور انعام خطاب لے لیااور اِس چشم پوشی سے اس کی غرض روپیہ کمانا ہے۔سو سچی بات یہ ہے کہ ان کو خلیفہ کہنا خلاف حق اور ظلم کی بات ہے۔اے نوجوانو یہ ہے حال بادشاہوں کا۔اب ہم زمانہ کے علماء کا حال بیان کرتے ہیں۔جن کی طرف بزرگی اور معرفت کو منسوب کیا جاتا ہے۔اب اس سے آگے ترجمہ کی کوئی ضرورت نہیں۔اِس لئے کہ وہ خود زبان دانی کے مدعی ہیں۔ بکلمتیہ۔ ویحرز العین بغض عینیہ۔ فالحق أن نسبۃ الخلافۃ إلیہم خلاف۔ وکذب واعتساف۔ ہذا حال السلاطین* أیہا الفتیان۔ ونذکر بعد ذالک علماء ہذا الزمان الذین یُعزَی إلیہم الفضل والعرفان۔ واللّٰہ المستعان۔ ولا حاجۃ إلی الترجمۃ والترجمان۔ فإنّہم یدّعون علم اللسان۔ فی ذکر عُلماء ھٰذاالزمان لمّا ثبت ممّا سبق من البیان أن ملوک الإسلام فی ہذا الزمان لا یطیقون أن یُصلحوا المفاسد التی تضرّمت کالنّیران۔ بقی لک حق أن تقول ان ہذہ الفتن قد تولّدت من جہل الجہلاء۔ وستنعدم من تعلیم العلماء۔ فإنہم ورثاء النبی وکماۃ ہذا المیدان۔ وإنہم مُنوّرون بنور العلم فیُرجی منہم أن یُصلحوا ما لم یُصلحہ سلاطین البلدان۔ * لیس مرادنا ھھنامن ذکر ملوک الاسلام ان کلھم ظالمون۔اوکلھم مفسدون بل بعضھم صالحون۔لایظلمون الناس ویرحمون کماہوسلطان الروم ونثنی علیہ لبعض خلیفۃ المعلوم۔ بید ان امرالخلافۃ امرعسیرولایعطی الالبصیرلالضریر۔ومااعطی ھٰذاالسھم لکل کنانۃٍ۔وان کانوا ذا مرتبۃ ومکانۃٍ۔منہ