چاہتے تو عربی کو قومی زبان بناتے۔اس لئے کہ عربی زبان تمام زبانوں کی ماں ہے۔ اور اُس میں قسم قسم کے عجائبات اور قدرت کی امانتیں ہیں۔سو مثال اس شخص کی جو عربی زبان کو چھوڑتا اور دوسری زبانوں کو اس پر ترجیح دیتا ہے۔اس پست ہمت کی مثال ہے جو اچھے ستھرے کھانے کو چھوڑ کر خنزیر کی ہڈیوں کا گودا کھاتاہے۔اس میں شک نہیں کہ ترکی اور فارسی نے ایک کیسہ بر کی طرح ان کے دین کو کم کردیا اور مال اڑا لیا ہے۔ یا بھیڑیے کی طرح ان کے رئیسوں کو پھاڑ کھایااور ان کے اقبال کو چاک کردیاہے اور ان کی دنیا اور آخرت کو نقصان پہنچایا ہے اور انہیں کُوٹ اور پیس کر سُرمہ اور آٹے کی طرح کر دیا ہے۔سو جھوٹ بولا اس نے جس نے ان کا ذکر تعریف کے ساتھ کیا اور ان کو زمین پر خدا کے خلیفے سمجھا اور اپنے دعوے کے منکر کو فاسق ٹھہرایا۔ایسا شخص تو نقدی اور بخشش کا طالب ہے اُسے خلیفہ خلافت سے کیا تعلق۔وہ تو اس بات کا طالب ہے کہ ولو أرادوا لجعلوا العربیۃ لسان القوم۔ ولو سلکوا ہذاالمسلک لعُصموا من اللوم۔ فإن العربیۃ أم الألسنۃ۔ وفیہا أصناف العجائب وودائع القدرۃ۔ فمثل رجل مسلم یترک العربیۃ ویُفضّل علیہا ألسنۃ أخری کمثل دنیء یتمشش الخنزیر ویترک طعاما ہو أطیب وأحلی۔ فلا شک أن الترکیّۃ والفارسیّۃ تصدت لہم کطرّار نقصت دینہم وخلست ما لہم۔ أو کذئب افترست عنقہم ومزّقت اقبالہم۔ وأضرّت دنیاہم ومآلہم۔ وجعلہم کالکحل سحقا۔ وکالطحن دقّا۔ وما نقول إلا حقّا۔ فقد کذَبَ من ذکرہم بحمد وفّاہ۔ وبنشرٍ ملأ بہ فاہ۔ وحسبہم خلفاء اللّٰہ علی الأرض وفسّق من أنکر دعواہ۔ إنہ یرتاد جفنۃ الجواد۔ لا خلیفۃ البلاد۔ ویستقری أن یرشح لہ ویسح علیہ