طرح ہیں ہالہ میں۔سو ان کے بازو سے جنگی بہادروں کا کام کیونکر نکل سکے۔بلکہ وہ تو بیٹھے ہوئے ہیں گھروں میں جیسا کہ عذارٰی۔ اس کے علاوہ ان میں یہ عیب بھی ہے کہ وہ عربی زبان کی اشاعت نہیں کرتے اور ترکی یا فارسی زبان کی اشاعت کرتے ہیں اور واجب تھا کہ اسلامی شہروں میں عربی زبان پھیلائی جاتی۔اس لئے کہ وہ زبان ہے اللہ کی اور اس کے رسول کی اور پاک نوشتوں کی۔ اور ہم تعظیم کی نگاہ سے اُن مسلمانوں کو نہیں دیکھتے جو اس زبان کی تعظیم نہیں کرتے اور نہ ہی اسے اپنے شہرمیں پھیلاتے ہیں اس لئے کہ شیطان کو پتھراؤ کریں اور یہ بڑا سبب ہے ان کی تباہی کا اور ان کے وبال کا نشان ہے۔اس لئے کہ وہ ستھرے باغ کو چھوڑ کر گوبر کے دمنہ پر جھک پڑے ہیں۔اور اپنے ہاتھوں سے اپنا مال پھینک دیا ہے۔اور اپنا تھیلا(جس میں مال اسباب رکھا جاتا ہے) پارہ پارہ کردیا ہے اور ادنیٰ کو اعلیٰ کے بدلہ لے لیا ہے اور یہودیوں کی مانند ہوگئے ہیں۔اوراگر المنخسف بین ہالۃ النصاری۔ فکیف یصدر من عضدہم فعل من بارز وبارٰی؟ بل ہم قعدوا فی البیوت کالعذارٰی۔ ثم من معائب ہذہ الملوک أنہم لا یشیعون العربیۃ۔ ویشیعون الترکیۃ أو الفارسیۃ۔ وکان من الواجب أن یُشاع ہذہ اللسان فی البلاد الإسلامیۃ۔ فإنہ لسان اللّٰہ ولسان رسولہ ولسان الصحف المطہّرۃ۔ و لا ننظر بنظر التعظیم إلی قوم لا یُکرمون ہذا اللسان۔ ولا یشیعونہا فی بلادہم لیرجموا الشیطان۔ وہذا من أوّل أسباب اختلالہم۔ وأمارات وبالہم۔ فإنہم تمایلوا علی دمنۃ من حدیقۃ مطہّرۃ۔ ونبذوا من أیدیہم حریبتہم ومزّقوا عیبتہم۔ واستبدلوا الذی ہو أدنی بالذی ہو أرفع وأعلٰی۔ وشابہوا قوم موسٰی۔