کے لئے ایک فوج مقرر کی جائے۔سو اگر تم ان سے نفسوں کی اصلاح کی اور اخلاق کے آراستہ کرنے کی اور پادریوں کے اوہام سے بچانے کی خدمت چاہو تو یہ کام ان کی ہمت اور دانش سے بالا تر ہے۔ اوریہ ایسا منار ہے جو اُن کی عمارت سے بہت رفیع الشان ہے۔بلکہ وہ لوگ مادی اور سیاسی اصلاح میں مشغول ہیں انہیں علمی اور عملی اصلاح سے کیا مناسبت اور کیا تعلق۔ بادشاہوں اور امیروں کو قدرت نہیں کہ بری خواہشوں کو دور کرسکیں۔اوروہ کیونکر دوسروں کو راہ دکھائیں جبکہ وہ آپ ہی اندھی اونٹنی کی طرح چلتے ہیں۔ٹیڑھے دل سے کیا توقع ہو سکے کہ وہ کسی بیمار جان کو سیدھا کرے گااور بدبختوں کو نیک بخت کرے گا اور لڑکھڑانے والے کا ہاتھ پکڑے گا۔اور کمزوروں کی رہبری کرے گا۔اور اندھوں کی آنکھیں کھولے گا اور محجوبوں کے پردے دور کرے گا بلکہ اسلام کے بادشاہ آج کل متوالوں یا قیدیوں کی طرح ہیں یا گہنائے ہوئے چاند کی الداخلیۃ وفصل الأحکام والقضاء والإمضاء ۔ فإن تطلبوا منہم خدمۃ اصلاح النفوس۔ وتہذیب الأخلاق والتنجیۃ من أوہام القسوس۔ فذالک أمر أرفع من ہممہم و دہاۂم۔ ومنارٌ أسنی من بناۂم۔ بل ہم قوم مشتغلون بالإصلاح المادی والسیاسی۔ فما لہم وللإصلاح العلمی والعملی۔ فحاصل الکلام ان الملوک والأمراء لا یقدرون علی أن یزیلوا الأہواء ۔ وکیف یہدون غیرہم وہم یمشون کناقۃ عشواء ۔ وکیف یُتَوَقّع من قلب زایغ أن یُقوّم نفسًا ذات عدواء۔ وأن یُسعد الأشقیاء ؟ وأن یأخذ بید المتخاذلین۔ ویقود الضعفاء۔ وأن یفتح عیون العمین وأن یرفع حجب المحجوبین؟ بل ملوک الإسلام فی ہذہ الأیام کالسکاری أو الأساری۔ أو القمر