رہتے ہیں۔پس انہیں مغز اور حقیقت سے کیا نسبت۔اُن کا فرض اس سے زیادہ نہیں کہ اسلام کی سرحدوں کی نگہداشت کا اچھا انتظام کریں۔اور ظاہر ملک کی خبر گیری کرکے دشمنوں کے پنجوں سے اسے بچائیں۔رہے لوگوں کے باطن اور ان کا پاک کرنامیل کچیل سے۔اور بچانا لوگوں کو شیطان سے۔اور نہ ان کی نگہبانی کرنا آفتوں سے دعاؤں کے ساتھ اور
عقد ہمت کے ساتھ سو یہ معاملہ بادشاہوں کی طاقت اور ہمت سے باہر اور
بالا تر ہے اور دانشمندوں پر یہ بات پوشیدہ نہیں۔اور بادشاہوں کو مُلک کی باگ
اس لئے سپرد کی جاتی ہے کہ وہ اسلامی صورتوں کو شیاطین کی دستبرد سے
بچائیں۔اس لئے نہیں کہ وہ نفوس کو پاک صاف کریں اور آنکھوں کو نورانی بنائیں۔
اصل میں ان کی بڑی کوشش یہی ہے کہ ان کو طوعاً وکرہاً خراج دیا جاوے اور ان کے
ہاں ایسے دفتر مرتب ہوں جن میں زمینوں کی مقداریں ضبط رہیں۔اور دشمنوں
کی فوجوں کے مقابل فوجیں آمادہ اور آراستہ رہیں۔اور اندرونی سیاست اور امور انتظامیہ
فما لہم لللبّ والحقیقۃ۔ ولیست فرائضہم أزید من أن
یُحسنوا الانتظام لحفظ ثغور الإسلام۔ ویتعھدوا ظواہر
الملک ویعصموہ من براثن الأعداء اللئام۔ وأمّا بواطن
الناس۔ وتطہیرہا من الأدناس۔ وتنجیۃ الخلق من شر الوسواس الخنّاس۔ وحفظہم من الآفات بعقد الہمّۃ والدعوات۔ فہذا أمر أرفع من طاقۃ الملوک وہممہم کما لا یخفی علی ذوی الحصاۃ۔ وما فُوّضَ زمام الملک إلی أیدی السلاطین۔إلا لحفظ الصور الإسلامیۃ من بطش الشیاطین۔ لا لتزکیۃالنفوس وتنویر العمین۔ فما کان
مبلغ جہدہم إلا أن تدفع إلیہم الخراج بالجبر أو التراضی۔
ویرتب الدیوان الذی تُحصٰی فیہ مقادیر الأراضی۔ وان
تہیّأ جنود بحذۃ عساکر الأعداء ۔ وأن ینصب فوج للسیاسات