مسلمان یا مخلص ہمدرد بھی ہوں۔لیکن پھر بھی ان کے نفوس پاک کاملوں کے نفوس
کی مانند نہیں ہیں۔اور مقدسوں کی طرح انہیں نور اورجذب نہیں دیا جاتا۔اس لئے کہ
نور آسمان سے اسی دل پر اترتا ہے جو فنا کی آگ سے جلایا جاتاہے۔
پھر اُسے سچی محبت دی جاتی ہے اور رضا کے چشمہ سے اُسے غسل دیا جاتا اور
بینائی اور سچائی اور صفائی کا سرمہ اس کی آنکھوں میں لگایا جاتا ہے۔پھر اسے برگزیدگی
کے لباس پہنائے جاتے ہیں۔اور پھر اسے بقا کا مقام بخشا جاتا ہے۔اور جو آپ ہی اندھیرے میں بیٹھا ہو وہ اندھیرے کو کیونکر دور کرسکتا ہے۔اور جو آپ ہی لذات کے تختوں پر سوتا ہو وہ کسی کو کیا جگا سکتا ہے۔اور حق بات یہ ہے کہ اس زمانہ
کے بادشاہوں کو روحانی امور سے کوئی مناسبت نہیں۔خدا نے
ان کی ساری توجہ جسمانی سیاستوں کی طرف پھیر دی ہے۔اورکسی مصلحت سے
انہیں اسلام کے پوست کی حمایت کے لئے مقرر کررکھا ہے۔سیاسی اُمور ہی ان کے پیشِ نظر
کانوا من المسلمین أو من المخلصین المواسین۔ ولکن
لیست نفوسہم کنفوس الکاملین المطہّرین۔ وما أُعطَی
لہم نورٌ وجذبٌ کالمقدّسین۔ فإن النور لا ینزل قط من السماء
إلّا علی قلب أُحرِق بنیران الفناء ۔ ثم أُعْطِی من حُبّ شغفہ و
غُسِلَ من عین الرضاء ۔ وکُحل بکحل البصیرۃ والصدق والصفاء ۔ ثم کُسِیَ من حُلل الاجتباء والاصطفاء ۔ ثم وُہِبَ لہ مقام
البقاء ۔ وکیف یُزیل الظلمۃ من ہو قاعد فی الظلمات؟ وکیف
یوقظ من ہو نائم علی أرائک اللذّات۔والحق إن ملوک
ہذا الزمان لیست لہم مناسبۃ بالأمور الروحانیۃ۔ وقد صرف
اللّٰہ ہممہم إلی السیاسات الجسمانیۃ۔ ونصبہم بمصلحۃ
من عندہ لحمایۃ قشرۃ الملّۃ۔ وقیّد لحظہم بالأمور السیاسیۃ۔