اور نشانوں کی نسبت کتھا کہانیاں رہ گئی ہیں اور کتاب مبین سے نراپوست اور چھلکا رہ گیا ہے۔اور وہ اس گھر کی مانند ہے جس کا مالک مر گیا ہے اور بین کرنے والیاں اس پر نوحے کررہی ہیں اور اس کی دیواریں ڈھ گئیں اورعمارتیں کپکپائی گئیں۔اب بتاؤ اے طبیبو تمہارے نزدیک علاج کا کیا طریق ہے۔کیا تمہاری رائے میں یہ امراء اس بلا کو دفع کرسکتے ہیں۔اور کیا تم امید کرتے ہو کہ یہ بادشاہ ان کانٹوں سے دین کے باغ کو پاک کرسکیں گے۔یا تم خیال کرتے ہو کہ یہ بیماریاں اسلامی سلطنتوں اور ان کی معلوم کوشش سے اچھی ہو جائیں گی۔ نہیں نہیں یہ بات اس سے زیادہ دشوار ہے کہ تم تھوہر سے تازہ کھجوروں کی امید رکھو اور ان سے کیا توقع کی جائے اور وہ تو بڑے پتھروں کے نیچے دبے ہوئے ہیں اور وہ کیونکر سر اٹھائیں اور وہ ہزاروں غموں کے نیچے آئے ہوئے ہیں۔مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ ان آفتوں کا دفع کرنا بادشاہوں اور امیروں کامقدور نہیں۔ کیا کبھی اندھا اندھے کو راہ بتا سکتا ہے۔اے دانشمندو۔علاوہ بریں اگرچہ یہ بادشاہ إلا قصص من الآیات وقشرۃ من الکتاب المبین۔ وتراہ کدارٍ مات صاحبہا۔ وقامت نوادبہا۔ وہُدم جدرانہا۔ وزُلزل بنیانہا۔ فانظروا ماذا ترون طرق المداوات یا طوائف الأساۃ؟ أتجدون ہٰؤلاء الأمراء۔ یدفعون تلک البلاء۔ أتتوقّعون من ہذہ الملوک أنہم یُطہّرون حدیقۃ الدین من تلک الشوک۔ أو تزعمون أن ہذہ الأمراض تَبرأ من الدول الإسلامیۃ وبجہدہم المعلوم۔ کلا بل ہو أمر أعسر من أن تتوقعوا الرطب الجنی من الزقّوم۔ وکیف وہم فی غشیۃ الوجوم۔ وکیف یرفعون رأسہم وہم تحت ألوف من الہموم۔ والحق والحق أقول ان ہذہ آفات لیس دفعہا فی وُسع الملوک والأمراء۔ أیہدی الأعمٰی أعمٰی آخر یا ذوی الدہاء ؟ ثم إن ہذہ الملوک وإن