روشن حقہ کو کچھ بھی نفع نہ پہنچا۔بلکہ اسلام لنگڑے مریل متعدی مرض والے اونٹ پر سوارہوکر ایسی زمین میں چلا جس میں نہ سبزہ ہے اور نہ پانی ہے اور سخت ناہموار ہے اس لئے کہ بادشاہ خواہشوں کے جیل میں بندہیں اور مجوسیوں کی طرح خواہشوں کی آگ کے پرستار ہیں۔اور جو شخص شیطانی بیشوں میں چرتا چُگتا ہو اسے رحمانی باغوں سے کیا سروکار۔میرے نزدیک اُن کے وقت میں دین کی مثال اس جسم کی طرح ہے جس پراندر سے تو چیچک اور پھوڑے اور پھنسیاں نکلے ہوں اور باہر سے چھریوں اور نیزوں اور تلواروں نے اُسے زخمی کیاہو۔اور اس کے سرسبز کھیتوں میں ردّی نکمی چیزیں اگتی ہوں۔اور اس کے اعلیٰ درجہ کے کھجور کے درخت جلا دئیے گئے ہوں۔اور کبھی وہ ایسا باغ تھا کہ آنکھیں اس کے سرسبز نونہالوں کو دیکھ دیکھ خوش ہوتیں۔اور اس کے ابروباراں کو دیکھ کر دلوں کو جلا اور تازگی ملتی تھی۔لیکن وہی آج اُس درخت کی مانند ہے جس کے سایہ میں چمگادڑوں نے گھونسلے بنائے ہیں اور اس چشمہ کی مانند ہے جس کے خوشگوار
پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں رہا۔اور اس دین کی ہر شوکت اور برکت کوچ پر آمادہ ہورہی ہے۔
نفع وجودہم الشریعۃ الغرّاء۔ بل تدثّر الإسلام ظالعا ذا عدواء۔ فی أرض متعادیۃ موات مرداء۔ بما کان الملوک فی سجن الأہواء۔ کالمحبوس۔وعبدۃ نار الشہوات کالمجوس۔ ومن کان راتعا فی الأجمۃ الشیطانیۃ۔ ما لہ وللریاض الرحمانیۃ؟ فأری الدین فی زمنہم کمثل جسم ثارت بہ من الداخل حصبۃ ودمامیل وأنواع البثرات۔ وجرحہ من الخارج کثیر من المدی والقنا والمرہفات۔ وأُجْبِئَ زرعہ المخصب۔ وأُحرِق عذیقہ المرجّب۔ وکان فی زمان
کحدیقۃ ترتع النواظر فی نواضرہا۔ ویصقل الخواطر
بشیم مواطرہا۔ وأمّا الیوم فہو کشجرۃ اتخذت الخفافیش
أوکارہا فی أظلالہا۔ وکعین ما بقیت قطرۃ من زلالہا۔ واشمعلت للرحل کل شوکۃ وبرکۃ کانت فی ہذا الدین۔ وما بقی