اور امیروں پر مصیبتیں ٹوٹ پڑیں اور ادبار آگیااور پُرلطف زندگی اور زرنہیں رہا۔اور بہتیرے سخت مفلس ہو گئے ہیں اُس پانی کی طرح جو خشک ہو جاتایا اس آدمی کی طرح جس پر ڈاکہ پڑتا ہے۔اس کے علاوہ پادریوں کے گروہ نے منحوس دن میں اُن پر حملہ کیااور بہت سے لوگ عیسائی ہوگئے اور خدا اور رسول کریم کے دشمن ہوگئے۔سواب مجھے بتاؤ کہ تمہارے بادشاہوں سے کس بادشاہ نے اس طوفان کے وقت کشتی بنائی بلکہ وہ خود بھی ڈوبنے والوں کے ساتھ ڈوب گئے اور زمانہ کی قینچی نے ان کے ناخن قلم کر ڈالے اور ان کے منہ کو گردوغبار نے ڈھانک لیا اور زمانہ نے اُن کا پانی خشک کردیا اور اقبال ان سے الگ ہوگیا۔اور انہوں نے حیلے تو کئے پر اُن سے کچھ نفع نہ پایااور ایسے فتنے آشکار ہوئے کہ وہ اپنی کمیٹیوں اور پارلیمنٹوں کے ذریعہ اور دشمنوں کی سرحدوں پر فوجوں کی چھاؤنی ڈال دینے کے وسیلہ ان کی اصلاح نہ کرسکے۔بسا اوقات انہوں نے ہتھیار سجائے اور بڑے بڑے لشکر بھیجے مگر نتیجہ سوائے شکست اور بڑی ذلت کے کچھ نہ ہوا۔ان کے وجود سے شریعت
وظہر الادبار۔ وما بقی لہم العیش النضیر ولا النضار۔ و
تری أکثرہم بادی المترتبۃ* کماء یغور أو کرجل یغار۔ ثم
صالت علیہم طوائف القسوس فی الیوم المنحوس فدخل
کثیر من الناس فی الملّۃ النصرانیۃ۔ وصاروا أعداء اللّٰہ
وأعداء رسولہ خیر البریّۃ۔ فأرونی أی ملک من ملوککم صنع
فلکا عند ہذہ الطوفان۔بل أُغرقوا مع المغرقین۔ وقلّم أظفارہم مقراض الزمان۔ ورہق وجوہم القتر۔ وانتزف ماء ہم الدہر۔ وفارقہم الاقبال۔ واحتالوا فما نفعہم الاحتیال۔ وظہرت فتن ما کانوا أن یُصلحوہا بالشورٰی والمنتدٰی۔ ولا بتجمیر البعوث علی ثغور العدا۔ وربما تقلّدوا أسلحۃ۔ بعثوا جنودًا مُجنّدۃ۔ فما کان مآلہم إلا الخزی والہزیمۃ۔ والہوان والذلۃ العظیمۃ۔ وما