بلکہ تم حد سے نکلنے والے لوگ ہو۔اور خدا نے کوئی رسول نہیں بھیجا جس کے ساتھ آسمان اور زمین سے عذاب نہ بھیجا گیا ہو اس لئے کہ وہ باز آئیں۔اسی طرح حضرت مسیح کے زمانہ میں بھی پھوڑا نکلتا تھا جو ایک موقت عذاب تھا اور اس میں غور کرنے والے کے لئے نشان ہے۔دیکھتے نہیں کہ کیسی حفاظت کی اللہ نے اس گاؤں کی اور اپنے وعدہ کو سچا کیا اور اس زمین کو امن والی کردیا۔او راس کے آس پاس کے لوگ ہلاک ہورہے ہیں۔اس میں سوچنے والے کے لئے نشان ہے۔کیا نہیں دیکھتے کہ ہریک قسم کے طاعون نے دوسرے دیہات میں کیونکر اپنے دانت دکھلائے ہیں اور اس گاؤں کو خدا نے اپنے میں لے لیا تا کہ اس وعدہ کو پوراکرے جو اس سے پہلے شائع کیا گیا اور خدا سے زیادہ راست گواور کون ہے۔پس فکر کراگر تُوپرہیزگار انسان ہے ۔اور بخدا یہ بڑا نشان ہے سوجاکھوں کے لئے۔سو تم ان کو پوچھو جنہوں نے یہ نشان دیکھا ہے اور دیکھ رہے ہیں اگر تمہیں علم نہیں اور تم اپنے شیطانوں کی پیروی مت کرو اے وے لوگوجو تکذیب کررہے ہو۔ کیا تم خبردار نہیں ہوتے اور بہ تحقیق خدا کی طرف رجوع کرو۔کیا تم متنبہ نہیں ہوتے اور تم پر اور تمہارے بادشاہوں وما أرسل اللّٰہ من رسول إلا وأرسل معہ عذاب من السماء والأرض لعلہم یرجعون۔ وکذالک کان النغف فی زمن المسیح عذابا موقتا وإن فی ذالک لآیۃ لقوم یتدبّرون۔ ألا ینظرون کیف حفظ اللّٰہ ہذہ القریۃ وصدق وعدہ وجعلہا أرضا آمنۃ۔ ویؤخذ الناس من حولہا۔ إن فی ذالک لآیۃ لقوم یتفکّرون۔ ألا ینظرون کیف اری الطواعین نواجذہا فی قُرًی أخرٰی۔ وأوی اللّٰہ إلیہ ہذہ القریۃ لیتم وعدًا أُشیع من قبل فی الورٰی۔ ومن أصدق من اللّٰہ قیلا۔ ففکّر إن کنتَ بالتقوی تتحلّی۔ وواللّٰہ إنہا آیۃ عظمٰی لأناس یُبصرون۔ فاسألوا الذین رأوہا ویرونہا إن کنتم لا تعلمون۔ولا تتّبعوا شیاطینکم وتوبوا إلی اللّٰہ ایہا المُکذّبون۔ ألا تتنبّہون وقد صُبّت المصائب علیکم وعلٰی ملوککم أیہا المعتدون۔