عبادت میں نمود اور زہد میں خود بینی داخل ہو گئی ہے۔ بدبختی نمودار ہوگئی اور سعادت کے نشان مٹ گئے ہیں اور محبت اور اتفاق جاتا رہا اور بغض اور پھوٹ پیدا ہوگئی ہے اور کوئی گناہ اور جہالت نہیں جو مسلمانوں میں نہیں اور کوئی ظلم اور گمراہی نہیں جو ان کی عورتوں اور مردوں اور بچوں میں نہیں۔خصوصاً ان کے امیروں نے راہ حق کو چھوڑ دیا ہے یا بیٹھ گئے ہیں یا ایک لنگڑے کی طرح چلتے ہیں اور بعضے تو سب مُردوں اور زندوں سے زیادہ ستم گر ہیں اور خدا کا امر اُن کے آگے پیش کیا گیا اور وہ گونگوں کی طرح چپ ہوگئے اور سب سے پہلے حق کے منکر ہوئے۔اسی سبب سے خدا نے انسانوں پر طاعون بھیجی اور جانوروں اور چارپایوں پر خشک سالی۔ اور نشان ظاہر ہوئے پر انہوں نے قبول نہ کیا۔ سو خدا کا غضب اُترا۔اور جب انہوں نے عذاب دیکھا کہنے لگے کہ تیرے وجود کو ہم نجس سمجھتے ہیں اوریہ طاعون تیرے جھوٹ کی وجہ سے پھیلی ہے۔کہا گیا تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے۔کیا اگر تم کو یاد دلایا جائے العمایات۔ ودخل الریاء فی العبادۃ۔ والخیلاء فی الزہادۃ۔ وظہرت الشقاوۃ وانتفت آثار السعادۃ۔ ولم یبق التحابب و الاتّفاق۔ وظہر التباغض والشقاق۔ وما بقی ذنب ولا جہالۃ إلا وہو موجود فی المسلمین۔ ولا ضیم ولا ضلالۃ الا وہو یوجد فی نساۂم والرجال والبنین۔ سیّما أمراء ہم ترکوا الصراط أو قعدوا أو مشوا کالذی عرَجَ۔ وتری بعضہم أظلم ممّن دبّ ودَرَجَ۔ وعُرِضَ علیہم أمر اللّٰہ فسکتوا کأخرس۔ وصاروا أوّل من کفر بالحق وتدلّس۔ ولذالک أُخِذَ الناسُ بالطاعون والعجماوات بالموتان۔ وظہرت الآیات فما قبلوہا فنزل سخط الرحمان۔ ولما رأوا العذاب قالوا إنّا تطیّرنا بک وبکذبک جاء الطاعون۔ قیل طائرکم معکم أئن ذُکّرتم بل أنتم قوم مسرفون۔