اور عدل اور انصاف کو چھوڑ کر سونے چاندی کو بھی کھو بیٹھے اور
یہ باتیں پوشیدہ نہیں ایسے پر جو زمانہ سے واقف اور اُس آگ کو جانتا ہے جو
خاص اور عام کو جلا رہی ہے۔سو آج مسلمانوں کی راتیں چاند کے ڈوبنے کی راتیں ہیں
اور مختلف مذاق کے لوگ نظارہ کر رہے ہیں۔بعض لوگ تو مسلمانوں پر ہنسی
اُڑاتے گزرجاتے ہیں اور بعضے روتے ہوئے ان کی طرف دیکھتے ہیں۔
اور تم دیکھتے ہو کہ دل سخت ہو گئے ہیں اورگناہ بڑھ گئے ہیں۔اور سینے تنگ
ہو گئے اور عقلیں تیرہ و تار ہوگئیں اور غفلت اور سُستی اور
عصیان کی ترقی اور جہالت اور گمراہی اور فساد کا غلبہ ہو گیا ہے اور
تقویٰ کانام و نشان نہیں رہا۔اور دِلوں میں وہ نور جس سے ایمان کو
قوت ہو نہیں رہا اور آنکھیں اور زبانیں اور کان پلید ہوگئے ہیں اور اعتقاد
بگڑ گئے اور سمجھیں چھینی گئیں اور نادانیاں ظاہر ہوگئی ہیں اور
وودّعوا مع تودیع الصرف والعدل الذہب والصریف۔ وہذا أمر لا یخفی علی ابن الأیام۔ والمطّلع علی نار تضرّمت فی الخواص والعوام۔ فالیوم لیالی المسلمین محاق۔
وعلیہا من النظارۃ أطواق۔ ومن الزحام أطباق۔ فقوم یمرّون
علی المسلمین ضاحکین۔ وآخرون ینظرون
إلیہم باکین۔وترون أن القلوب قست۔ والذنوب کثرت۔ والصدور ضاقت۔ والعقول تکدّرت۔ وعمّت الغفلۃ
والکسل والعصیان۔ وغلبت الجہالۃ والضلالۃ و
الطغیان۔ وما بقی التقوی وخطفہ الشیطان۔ ولم یبق فی القلوب نور یقوی منہ الإیمان۔ ونجس الأبصار والألسن والآذان۔ وفسدت الاعتقادات۔ وسُلبت الدرایات۔ وظہرت الجہلات۔و