چُور ہو گیا ہے اور موسلا دھار مینہ کی طرح فتنے اس پر برس رہے ہیں۔
اور دشمنوں کی فوجیں شکاری کی طرح اس کے پھانسنے کو آمادہ ہیں۔اور اب
ایسی کوئی بات نہیں جو دِلوں کو خوش کرے اور دُکھوں کو دور کرے۔اور مسلمان جنگل کے
پیاسے یا اُس مریض کی طرح ہیں جو سانس توڑ رہا ہو۔ذری سی
جان اُن میں رہ گئی ہے۔ اور
طرح طرح کی بیماریوں میں گرفتار ہیں۔ اور
ظاہر اور باطن بگڑ گیا۔ اور نادان اور دانا بودے ہو گئے۔ اور مسافر
اور مقیم اندھے بن گئے اور اچھے دن دُور ہوگئے اور بُرے دن آ گئے
اور دین تبدیل ہو کر تلف ہونے پر آگیا اور اس کا دریا خالی مٹکے کی طرح ہوگیا اور
لوگوں نے صدق پر جھوٹی نکمی باتوں کو اور حق کی عالی شان عمارت پر ٹٹّی کو
اختیار کرلیا۔اور گمراہ ہونے کے بعد دنیا بھی جاتی رہی اور مصیبتیں دیکھیں
ہاضٍ۔ وجور فاضٍ۔ وإن الفتن مطرت علیہ ولا کمطر الوابل۔
وقام لصیدہ أفواج العدا کالحابل۔ وما بقی شیء
تسر القلوب۔ وتدرأ الکروب۔ وظہر المسلمون کعُطاشی
فی فلوات۔ وکمثل مرضٰی عند سکرات۔ وما بقی
فیہم إلا رمق حیاۃ۔ أو قطرۃ من فرات۔ أو قشرۃ من ثمرات۔
وإنہم قد ابتلوا بأنواع أمراض۔ وأقسام أعراض۔ وفسد
ما ظہر وما بطن۔ ووہن من جہل ومن فطن۔ وتعامی من
تغرّب ومن قطن۔ وغابت الأیام الغُرّ۔ ونابت الأحداث الغبر۔
وغُیّر الدین وقرب إلی تلف۔ وصار بحرہ کجلف۔ وآثر الناس
علی الصدق الأراجیف۔ وعلی القصر المنیف من الحق
الکنیف۔ ولما ضلوا ما بقی معہم دنیاہم وآنسوا التکالیف۔