پڑوسیوں کی مکاریوں کو سیکھیں لیکن باریک فریبوں اور بچاؤ کی تدبیروں میں ان تک
پہنچ نہ سکے۔سو وہ اس مرغ کی مانند ہیں جس نے پرواز میں کرگس بنناچاہا۔
پس اپنی جگہ سے تو اکھڑگیا اور کرگس کے مقام کو پہنچ نہ سکا آخر تھک کرگرا۔ پھر ایک چرغ نے میدان میں اسے آدبایا۔یہ ہے مثال مسلمان بادشاہوں کی۔ عیسائیوں کے
مقابل جو کچھ انہیں تقوی اللہ کے متعلق تعلیم ملی تھی اس سے تو منہ پھیر لیا۔اور اپنے مخالفوں کی طرح وہ چالاکیاں اور داؤبھی پورے نہ سیکھے اور مسلمان بادشاہوں کی نسبت خدا تعالیٰ
وعدہ کر چکا ہے کہ جب تک متقی نہ بنیں گے ان کی کبھی مدد نہ کرے گااور اس نے ایسا ہی چاہا ہے کہ نصاریٰ کو ان کے مکر میں کامیاب کردے جبکہ مومنوں نے اُسے ناراض کیاہے اور بدبختی سے ہم اس وقت مسلمان بادشاہوں کو خدا کی حدود پر قائم نہیں دیکھتے
بلکہ عیش و عشرت کی حرص کے سوا ان کے پیش نظر اور کچھ بھی نہیں۔
اور رعایا کے معاملات و مقدمات کے فیصلہ کی طرف کوئی توجہ نہیں۔کیا تم ان کے تخت کو امن کی
مکائد جیرانہم من النصاری۔ فما بلغوہم فی دقائق الدساسۃ وحیل الحراسۃ۔ فمثلہم کمثل دِیکٍ أراد أن یُضاہی النسر فی الطیران۔ فزایل مرکزہ وما بلغ مقام النسر فخر لاغبا فلقفہ صقر فی المیدان۔ ہذا مثل ملوک الإسلام بمقابلۃ أہل الصلبان۔ أعرضوا عمّا عُلّموا من وصایا الاتّقاء۔ وما کُمّلوا فی المکائد کالأعداء ۔ فبقوا لا من ہؤلاء ولا من ہؤلاء۔ وقد کتب اللّٰہ لملوک دینہ أن لا ینصرہم أبدًا إلا بعد تقواہم۔ وأراد للنصارٰی أن یجعلہم فائزین بمکرہم إذ أسخط المؤمنون مولاہم۔ومن سوء القدر أنّا لا نری فی ہذہ الأیام ملوک الإسلام قائمین علی حدود اللّٰہ العلام۔ لا فی أنفسہم ولا فی الأحکام۔ بل ما بقی فیہم إلا نہمۃ عشرین لونا من القلایا۔
وسبعین حسناء من المحصنات أو البغایا۔ ولا یعلمون ما