اس قدر تباہی اور پریشانی کے بعد ملت کی حالت کو درست کر لیں گے ۔اور تم جانتے ہو کہ ہر میدان کے لئے خاص خاص مرد ہوا کرتے ہیں اورکیا ممکن ہے کہ مُردہ دوسروں کو زندہ کر سکے یا گمراہ دوسروں کو ہدایت دے یا خشک بادل سے بارش اور اونٹ کا سوئی کے ناکے میں داخل ہونا ممکن ہے تو پھر ان سے کیا اُمید رکھ سکتے ہو۔ہمیں تو امید نہیں کہ وہ سنورجائیں جب تک انہیں موت ہی آکر بیدار نہ کرے۔ہاں وعظ و پند کرنے کا ہمیں حکم ہے اور ہم تو انہیں ان پرندوں کی طرح سمجھتے ہیں جو ہوا میں اڑتے اورپکڑے نہیں جاتے یا عمر کی طرح جو واپس نہیں آتی یا ان چمگادڑوں کی طرح جن سے شہر ویران ہوگئے یا اس شہر کی طرح جس پر مینہ برسا ہو۔ یا اس بے برکت سایہ کی طرح جس کے نیچے لوگ آرام نہیں پاتے یا اس زہر کی طرح جس سے جگر پارہ پارہ ہو جاتے ہیں۔ان کی ٹھوکر کا صدمہ بڑا بھاری ہے اور کوئی ایسا نظر نہیں آتا جو اِن گرتوں کو سنبھالے۔وہ خشک لکڑیاں ہیں پھلدار درخت نہیں۔اور ایندھن تو آگ کیلئے موزوں ہوتا ہے ان میں فراست کی قوت اور اصول مُلک داری کا علم نہیں۔انہوں نے چاہاکہ اپنے عیسائی بعد تہافتہا وبعد ما ظہر من الاختلال۔ ولکل موطن رجال کما تعلمون۔ وہل یُرجی إحیاء الناس من المیّت أوالہدایۃ من الضال۔ أو المطر من الجہام أو الولوج فی سم الخیاط من الجمال۔ فکیف منہم تتوقعون۔ وتاللّٰہ إنّا لا نتوقّع صلاحہم حتی یوقظہم الاحتضار۔ ولکن نُدِب إلینا الاذکار۔ وإنّا لا نحسبہم إلا کطیر محلّق لا یُصاد۔ أو کعمر لا یُستعاد۔ أو کخفافیش خربت منہا البلاد۔ أو کبلدۃ ما أصابہا العہاد۔ أو کظل غیر ظلیل لا تأوی إلیہ العباد۔ أو کسم قُطّعت منہ الأکباد۔ عظمت صدمۃ عثرتہم۔ وما أری من یُقلہم من صرعتہم۔ تراء وا کحطب لا کأشجار ذات الثمار۔ والحطب لا یلیق إلا للنار۔ فقدوا قوّۃ الفراسۃ۔ وأصول السیاسۃ۔ وأرادوا أن یتعلّموا