اور وہ کبھی خدا کے حضور گڑگڑاتے نہیں۔ان فعلوں اور عملوں سے ثابت
ہوگیا کہ انہوں نے خدا کو ناراض کرکے گمراہی کے طریق اختیار کئے ہیں
اور خود قاتل زہر کھا کر رعیت کو بھی اس میں شامل کر لیا ہے سو ان کے لئے وبال سے دو
حصے ہیں۔وہ جہنم میں خود بھی پڑیں گے اور دوسروں کو اپنے ساتھ ڈالیں گے۔اسلام پر
جو کچھ نازل ہوا ان کی بدعملیوں سے ہوا۔سو اے متکلمو!تم میں کوئی ایسا ہے جو
انہیں ان عادات کے نتیجوں پر آگاہ کرے۔اس لئے کہ ان لوگوں نے ناپاک
خواہشوں کے پیچھے اپنا دین کھو دیا ہے اور تمام احوال میں احول بن
گئے ہیں بلکہ میرے نزدیک تو وہ بالکل اندھے ہیں میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ تم ان کی
اطاعت کو چھوڑ کر ان سے جنگ و جدال کرو۔ بلکہ خدا سے ان کی
بہتری مانگو تو کہ وہ باز آ جائیں۔ اور یہ تو ان سے امید
نہ رکھو کہ وہ اصلاح کرسکیں گے ان باتوں کی جنہیں دجال کے ہاتھوں نے بگاڑدیاہے یا وہ
وأفاعی الدحال۔ وإنہم قوم لا یتضرّعون۔ فثبت من ہذہ
الأفعال والأعمال۔ أنہم أسخطوا ربہم واختاروا طرق
الضلال۔ وأکلوا سمّا زعافا ثم أشرکوا فیہ رعایاہم فلہم
سہمان من الوبال۔ یرِدُون جہنم ویوردون۔وکل ما
نزل علی الإسلام فہو نزل من سوء أعمالہم وفساد الأفعال۔
فہل فیکم رجل یفہم نتائج ہذہ الخصال أیہا المتکلّمون۔
فإنہم قوم ضیّعوا دینہم للأہواء والأعمال۔ وصاروا کأحول فی جمیع الأحوال۔ بل أراہم عمیا لا یبصرون۔ ولا أقول
لکم أن تخرجوا من ربقتہم وتقصدوا سبیل البغاوۃ والقتال۔
بل اطلبوا صلاحہم من اللّٰہ ذی الجلال لعلہم ینتہون۔ ولا تتوقّعوا منہم أن یُصلحوا ما أفسدت أیدی الدجّال۔ أو یقیموا الملّۃ