اور خدا کا امر اترتا ہے سو وہ ہلاک ہو جاتے ہیں اور خدا ان دیواروں اور شہروں کی بربادی کے لئے سبب پیدا کرتا ہے۔سو ایک قوم آتی ہے اور ان کو تباہ اور ویران کر دیتی ہے۔سو بادشاہان نصاریٰ کو مت کوسواور جو کچھ تمہیں ان کے ہاتھوں سے پہنچا ہے اسے مت یاد کرو اوبدکارو!خود اپنے آپ کو ملامت کرو۔کیا تم میری باتیں سنتے ہو۔نہیں نہیں تم تومنہ بناتے اور گالیاں دیتے ہو۔اور تمہیں سننے والے کان اور سمجھنے والے دل تو ملے ہی نہیں اور تمہیں اتنی فرصت ہی کہاں کہ کھانے پینے سے عقل کی طرف آؤاور خُم مَے سے الگ ہو کر خدا کی طرف دھیان کرو اور تم میں سوچنے والے جوان ہی کہاں ہیں۔کیا تم دشمنوں کو کوستے ہو اور تمہیں جو کچھ پہنچاہے اپنی بدکرداریوں کی وجہ سے پہنچاہے۔سنو تم اگر نیکوکار ہوتے تو بادشاہ بھی تمہارے لئے صالح بنائے جاتے۔اس لئے کہ متقیوں کے لئے خدا تعالیٰ کی ایسی ہی سنت ہے۔اور
مسلمان بادشاہوں کی مدح سرائی سے باز آؤ اور اگر ان کے خیر خواہ ہو تو ان
کے لئے استغفار پڑھواور ان کے آگے ایسے کھا نے نہ لے جاؤ جن میں زہر ہے
وینزل أمر اللّٰہ فیہلکون۔ ویحدث اللّٰہ سببا لہدم تلک الحیطان وتخریب تلک البلدان۔ فیأتی قوم فیہدّونہا من أساسہا وکذالک یفعلون۔ فلا تسبّوا ملوک النصاری ولا تذکروا ما مسّکم من أیدیہم ولا تلوموا إلا أنفسکم أیہا المعتدون۔
أتسمعون ما أقول لکم؟ کلا۔ بل تعبسون وتشتمون۔ وانّٰی لکم آذان تسمع وقلوب تفہم وأین لکم الفراغ أن تنقلوا من الأکل إلی العقل۔ وإلی الدیّان من الدنان۔ وأین فیکم فتیان یتذکّرون؟ أتسبّون أعداء کم وما نالکم إلا جزاء ما کنتم تکسبون۔ واعلموا أنکم إن کنتم صالحین لأصلح الملوک لکم۔ وکذالک جرت سُنّۃ اللّٰہ لقوم یتّقون۔ وانتہوا من اطراء ملوک الاسلام واستغفروا لہم أن کنتم تنصحون۔ ولا تتقدّموا إلیہم بموائد فیہا سمٌّ فیأکلون