ریاست کو دباتے چلے جاتے ہیں۔اوریہ سب کچھ ہونے والا تھا اور تم قرآن میں یہ باتیں پڑھتے ہو اور سوچتے نہیں۔اور ان کے پیچھے پیچھے پادریوں کو بھیجا جو لوگوں کو دھوکے دیتے اور گمراہ کرتے اور اپنے جھوٹے دین کی ترغیب دیتے ہیں۔مال اور عورتوں کا لالچ دے کر۔ سو نادان لوگ خدا کے دین کو روٹیوں اور عورتوں اور دوسری خواہشوں کی عوض بیچ ڈالتے ہیں اور یہ سارا گناہ بادشاہوں کی گردن پر ہے۔جنہوں نے رعایا کے حال کی اصلاح نہ کی اور ان کی برائیوں کو گناہ اور برا نہ سمجھااور کچھ بھی پرواہ نہ کی۔سو جبکہ انہوں نے دِلوں کا تقویٰ بدل دیا خدا نے ان کے امور دنیا کو بدل دیا۔ اور اس لئے بھی کہ وہ گناہوں پر دلیر تھے۔اور خدا تعالیٰ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتاجب تک وہ اپنی اندرونی حالت کو آپ نہ بدل لیں اور نہ ہی ان پر رحم کیا جاتا ہے۔بلکہ خدااُن گھروں پر *** کرتاہے اور ان شہروں پر جن میں لوگ بدکاری اورجرم کریں۔اور بدکاری کے گھروں پر فرشتے اتر کر کہتے ہیں اے گھر خداتجھے ویران کرے اور اے دیوار خدا تجھے ڈھا دے۔ حدَبٍ ینسلون۔ وکان ذالک أمرًا مفعولا وأنتم تقرء ونہ فی القرآن ولکن لا تُفکّرون۔ وقفّی علی آثارہم بقسوس فہم یُضلّون الناس ویخدعون۔ ویرغّبونہم فی دینہم الباطل بمال ونساء وبکل ما یُزیّنون۔ فیبیع السفہاء دین اللّٰہ برغفان ونسوان وأمانی أخری کما أنتم تنظرون۔ والاثم کلہ علی الملوک بما لم یصلحوا أمر رعایاہم وما رأوا مفاسدہم بوبلۃ و کانوا لا یبالون۔ فقلبت أمور دنیاہم بما قلبوا تقوی القلوب۔ و کانوا علی المعاصی یجترء ون۔ وإن اللّٰہ لا یغیّر ما بقوم حتی یُغیِّروا ما بأنفسہم ولا ہم یُرحمون۔ بل اللّٰہ یلعن بیوتا یفسق الناس فیہا وبلادا فیہا یجترمون۔ وتنزل الملائکۃ علی دار الفسق والظلم ویقولون ما عمّرک اللّٰہ یا دار۔ وخرّبک یا جدار۔