ہوجاتے ہیں۔اور اُن کے نزدیک بڑا مکرم وہ ہوتا ہے جو ان کا حال انہیں خوبصورت کرکے دکھائے اور ان کی اور ان کے اعمال کی تعریف کرے۔غرض اس طرح شراب خواری سے ان کے اخلاق بگڑگئے ہیں اور انگور کے درخت نے ان کی بیخ کنی کردی ہے حالانکہ یہ لوگ بزرگوں کی اولاد تھے ان کی غرض و مقصد اب یہی رہ گیا کہ بڑی بلند حویلیاں ہوں۔لطیف غذا ہو اور زبان کومارے تیزی کے کاٹنے والی شراب ہو۔کبھی نہیں سنا گیا کہ انہوں نے دشمن پر چڑھائی کی ہو۔ اسی وجہ سے ان پر وبال پڑااور بھیڑبکری کی طرح ان کی پشمیں کاٹی گئیں اور شاخوں کی طرح تراشے گئے اور چارپایوں کی طرح پکڑے گئے اور لکڑی کی طرح کاٹے گئے اور امارت اور دولت کی بلندی سے گر گئے جس طرح ناگہاں گٹھ سے کوئی کپڑا گر جاتاہے۔ اور جب خدا نے ان کا فسق و فجور اور ظلم اور جھوٹ اور اِترانا اور ناشکرگذاری دیکھی۔ان پر ایسے لوگوں کو مسلط کیا جو اُن کی دیواروں کو پھاندتے اور ہر بلند جگہ پر چڑھ جاتے ہیں اور ان کے باپ دادوں کی ملکیت پر قبضہ کرتے ہیں اور ہر ویکون أکرم الناس عندہم من زیّن لہم حالہم۔ وحمدہم وأعمالہم۔ وکذالک فسدت أخلاقہم من مداومۃ المُدام۔ واستأصلتہم شجرۃ الکرم مع کونہم من أبناء الکرام۔ ما بقی ہممہم من غیر أن یکون لہم قصر منیف۔ وغذاء لطیف۔ وشراب حرّیف۔ وما سُمع منہم تطریف۔ ولذالک لحقہم وبالٌ وخسران۔ وجُزّوا کما یُجَزّ ضان۔ وقُضّبوا کما تُقضّب اغصان۔ وأخِذُوا کما یوخذ دابّۃ۔ وقطعوا کما یقطع قضابۃ۔ وسقطوا من ذرَی دولۃ وإمارۃ۔ کما یسقط ثوب من کارۃ بغرارۃ۔ ولما رأی اللّٰہ فسقہم وفجورہم۔ وظلمہم وزورہم۔ وبطرہم وکفورہم۔ سلّط علیہم قوما یتسوّرون جدرانہم وکل ما علا یتسلّقون۔ ومما ملکہ آباء ہم یتملّکون۔ ومن کل