گویا وہ سخت کالی رات کے ٹکڑے ہیں۔انہیں اس امر کی خوشی ہے کہ ان کے اصطبل اعلیٰ درجہ کے گھوڑوں اور خچروں اور گایوں اور اونٹوں سے بھرپور ہوںیا خوبصورت عورتیں ان کے پاس ہوں۔اپنے فرائض کا کچھ بھی دھیان نہیں رکھتے اور کوچ کے دن کا اور بازپرس اور گرفت کی گھڑی کاکوئی ڈر نہیں۔کنگھی پٹی اور سرمہ لگانے میں سارادن خرچ کردیتے ہیں اور مردوں کی خُوبُو اُن میں رہی ہی نہیں۔اگر تم انہیں دیکھو تو کراہت کرو اور بازاری عورتیں سمجھو یا وہ غلام جو غلام کرنے کے بعد فروخت کے لئے سجائے جاتے ہیں۔نماز کی پابندی نہیں کرتے۔اور خواہشیں ان کی راہ میں چٹان اور روک بن گئی ہیں۔ اور اگر نماز پڑھیں بھی تو عورتوں کی طرح گھر میں پڑھتے ہیں اور متقیوں کی طرح مسجدوں میں حاضر نہیں ہوتے۔اور ہوں کیونکر جامِ مَے سے تو الگ نہیں ہوتے۔ اور ندیموں کی ناپاکیوں کو نہیں چھوڑتے۔اور وعظ کی کوئی بات سن نہیں سکتے۔ جھٹ کبر اور نخوت کی عزت انہیں جوش دلاتی ہے اور غضب اور غیرت میں نیلے پیلے کَاَنّہا ہزیع من اللیلۃ اللیلاء ۔ یفرحون بمرابط مملوۃ من طرف وبغال وبقر وجمال۔ أو نساء ذات بہاء وحسن وجمال۔ ولا یتعہّدون فرائضہم ولا یخافون یوم ارتحال۔ وساعۃ أخذٍ وسؤال۔ وینفدون یومہم فی الزینۃ والمشط والاکتحال۔ وما بقی فیہم سیرۃ من سیر الرجال۔ وإذا رأیتہم بذأتہم وحسبتَہم نساء الأسواق۔ أو عبیدًا زُیّنوا للبیع بعد الاسترقاق۔ لا یُداومون علی الصلاۃ۔ وصارت أہواء ہم فی سبلہم کالصلات۔ وإن صلّوا فیُصلّون فی البیوت کالنساء ۔ ولا یحضرون المساجد کالأتقیاء ۔ وکیف وإنہم لا یُفارقون کأس الصہباء۔ ولا یترکون أدناس الندماء ۔ ولا یطیقون أن یسمعوا من الوعظ کلمۃ۔ فیأخذہم عزۃ کبرٍ أو نخوۃ۔ ویتوغّرون غضبا وغیرۃ۔