خوشی جاتی رہی اور عزت تباہ ہوگئی اور عورت کے پیچھے امیری خاک میں مل گئی۔ اور دولت اور ثروت کے بعد اب نان شبینہ کے محتاج ہو گئے ہیں اور مارے غم کے آنکھیں خراب ہوگئی ہیں اور حسرت بڑھ گئی ہے۔اس پربھی وہ خود خواہشوں کو نہیں چھوڑتے ہاں خواہشیں انہیں بیماریوں اورآفتوں کے وقت چھوڑ جاتی ہیں۔ اور جب بدکاروں کی طرح حظ نفس کو پورا کرنے پرآتے ہیں تو کوئی حدبست رہنے نہیں دیتے۔ آخر کار بدن کی طاقتوں اور صحت کا نظام درہم برہم ہوجاتاہے۔اوریوں صحت و قوت کے دوبارہ ملنے کی آرزو میں جان نکل جاتی ہے۔گویا ان لوگوں نے اپنے بدن اور قوت کو بدکار عورتوں پر وقف کررکھا ہے اور ان کی محبت کو جان اور آبرو اور مال اور ملت کے بچاؤ پر مقدم کر لیا ہے۔یہ لوگ شیطان کے ظل ہیں۔اور ان کے وجود میں کوئی خیر نہیں۔ ان کی طبیعتوں کو تو دیکھتا ہے جیسی زمین نشیب فراز والی ناہموار صبح اور شام نئے نئے رنگ نکالتی ہیں اور گھمنڈ اور خودبینی سے ان کے دل سیاہ ہوگئے ہیں۔ صرّتہم۔ وسرت مسرّتہم۔ وبُدّل بالخطر خطرتہم۔ وضاعت لامرأۃ إمرتہم۔ وظہر قتر الفقر بعد ما أودع سر الغنی أسرّتہم۔ وحسر بصرہم من الحزن ودامت حسرتہم۔ ومع ذالک لا یترکون الشہوات۔ والشہوات تترکہم بالشیب والأمراض والآفات۔ ولا یتّقون شططا وغلوًّا فی استیفاء الحظوظ کالفجرۃ۔ حتی ینجر الأمر إلی تلاشی الصحّۃ واختلال البنیۃ۔ وتزہق أنفسہم وہم یتمنّون أن تعود أیام الصحّۃ والقوّۃ۔ کأنہم وقفوا أبدانہم وقواہم علی البغایا وآثروا حبّہن علی عصمۃ النفس والعرض والملّۃ۔ إن ھٰؤلاء قوم صاروا للشیطان کفیء ۔ ولیسوا من الخیر فی شیء ۔ تری طبائعہم کأرض ذات کسور غیر المسحاء ۔ متلوّنۃ فی الصباح والمساء ۔ وتری قلوبہم مظلمۃ من الکبر والخیلاء ۔