ان کے دن اب تھوڑے رہ گئے ہیں اور بہت جلد ان کا تانا بانا ادھڑنے والا ہے۔اور جب مثلاً سلطان روم ہلاک ہوگیا تو ان رائے زنوں کے نزدیک اس کے بعد کوئی اور سلطان نہیں۔اللہ تعالیٰ جانتا ہے اسے جو مخفی رکھا ہے اور جو کچھ کرتا ہے۔ایک رائے زمین میں ہے اور ایک رائے آسمان میں۔ سواب کون اُن کو جگائے اورکون سونے والوں کو بیدار کرے اور اس بلا کی خبر دے۔ اس میں شک نہیں کہ اکثر بادشاہ سخت بے اعتدالی کرتے ہیں اور عیش و عشرت میں حد سے نکل گئے ہیں اور فسق اور کسل اور معصیت میں مبتلا ہیں۔ خوبصورت عورتوں کی تلاش میں رہتے اور ان کے وصال کے حیلے سوچتے رہتے ہیں خواہ ناجائز حیلے کیوں نہ ہوں اور بدرہ خرچ کرتے ہیں اگر بدر آسمان سے اتر آوے۔بدکاری سے ان کی قوتیں فنا ہو گئیں ہیں اور حور وقصور کی فکر میں زور و زر سب جاتا رہا ہے۔ بہتوں کی تھیلیاں خالی ہوگئیں اور الحالات۔ علی أن أیامہم ایّام معدودۃ وسیزول أمرہم وإمرتہم فی أسرع الأوقات۔ وإذا ہلک سلطان الروم مثلا فلا سلطان بعدہ عند ہؤلاء الذین رموا أحجار الآراء۔ واللّٰہ یعلم ما کتمہ وما یفعلہ رأیٌ فی الأرض ورأیٌ فی السماء ۔ فمن ذا الذی یُنبّہ ہؤلاء۔ ومن یوقظ النائمین ویُخبرہم من ہذا البلاء۔ولا شک أن أکثر ہذہ الملوک أسرفوا علی أنفسہم وجاوزوا الحدّ فی التنعم واللُّہنیّۃ۔ وجعلوا نفوسہم رہینۃ الفسق والکسل والمعصیۃ۔ لا یزالون یبغون غانیۃ من النساء ۔ ویستقرون حیلۃ لوصالہا ولو بالفحشاء ۔ ویبذلون بدرۃ لو نزل البدر من السماء ۔ تفانت قواہم من الفسق والفجور۔ وذہبت نَضرتہم و نُضارہم فی فکر النسوۃ والقصور۔ وترٰی کثیرًا منہم خلت