اور کوئی حق اور سچ بات ان کے منہ سے نہیں نکلتی۔اور اپنے دلوں میں بجز ہلاکت
اور تباہی کے اور کچھ نہیں ڈھونڈتے۔بادشاہوں سے ان باتوں کا تذکرہ نہیں کرتے جو
اس دنیا میں اور آخرت میں ان کے کام آئیں بلکہ ان کو شکاری درندوں اور سانپوں کی طرح رہنے دیتے ہیں۔اور ہر گھڑی اس کوشش میں رہتے ہیں کہ ان کے کان
خدا کے امر اور رسول خدا کی سنت کے سننے سے دور رہیں۔اور غفلت کے بدانجام
سے انہیں نہیں ڈراتے۔اور بدکاری کرتے وقت انہیں بدکار نہیں ٹھہراتے۔سو ایسی
خصلت اور چال چلن کے لوگ ان بادشاہوں کے حق میں ایسے ہیں جیسے گڑھا
لڑکھڑانے والے پاؤں کے حق میں۔یا جیسے ایندھن آگ کے لئے یا پردہ آنکھوں پر۔
ان کی پیاس کو نہیں بجھاتے۔بلکہ ان کی لغزشوں کی تعریف کرتے ہیں۔اسی وجہ سے ان کے
بادشاہ لوگوں کی زبانوں کے نشانہ بنے ہوئے ہیں۔اوریورپ کے اخبار انہیں سست اور
نالائق لکھتے ہیں۔بلکہ ان حالات کو دیکھ کر عیسائی اہل الرائے متفق ہوکر کہتے ہیں کہ
ولا یخرج من أفواہہم قول یقرب الصدق والصواب۔ ولا یبغون فی أنفسہم إلا الہلاک والتباب۔ لا یذاکرون ملوکہم بما ہو خیر
لہم فی ہذہ ویوم المکافات۔ بل یترکونہم کالسباع المفترسۃ والحیوات۔ ویسعون فی کل وقت من الأوقات۔ أن ینبأ سمعہم
عن أوامر اللّٰہ وسنن خیر الکائنات۔ ولا یُخوّفونہم
من عواقب الغفلۃ۔ ولا یؤثّمونہم عند ارتکاب المعصیۃ۔
فہل ہم بہذہ السیرۃ لہذہ الملوک إلا کحُفرۃ للرجلین المتخاذلین؟ أو کوقود لنار أو کغشاوۃ علی العینین۔ لا یُطفؤن أُوارہم۔ بل یحمدون عثارہم۔ ولذالک صارت ملوکہم غرضًا لحصائد الألسنۃ۔ وسُمّوا قومًا کُسالی فی الجرائد
المغربیۃ۔ بل أجمع أہل الرأی من النصاری نظرًا علی ہذہ