رسوا نہیں کیا بلکہ خدانے کیا۔اس لئے کہ خدا کی آنکھوں کے سامنے انہوں نے بے فرمانیاں کیں سو اس نے انہیں دکھایا جو دکھایا اور انہیں آفات میں چھوڑ دیا اور نہ بچایا اور ان کے وزیر بددیانت اور خائن ہیں۔انکا مال کھاتے ہیں اور مخلص نہیں اور انہیں اندھا بن جانے اور غلطی کی طرف میل کرجانے سے نہیں روکتے اور تغافل شعار زیرک کی طرح چشم پوشی کرتے ہیں۔اور مداہنہ کرنے والے بچ بچ کر چلنے والے کی طرح ان کی حمایت اور دفاع کرتے ہیں۔اور ان لوگوں کی دو قسمیں ہیں کچھ تو بچھوؤں کی مانند ہیں اور کچھ عورتوں کی مانندیا دوسرے لفظوں میں ہم یوں کہتے ہیں کہ ایک حصہ تو وہ نادان جاہل ہیں جنہیں عرفان سے کچھ بھی بہرہ نہیں ملا۔اور ایک حصہ وہ ہیں جو جان بوجھ کر جاہل بنے ہوئے ہیں اور شیطان کی طرح اپنے بادشاہوں کی ہلاکت چاہتے ہیں۔دیکھتے ہیں کہ ان کے بادشاہ خدا اور شرع کی حرام کردہ چیزوں کے نزدیک جاتے ہیں۔پھر بھی کہتے ہیں کہ یہ مباح چیزیں ہیں اور پرہیزگاری کے طریق کے مخالف نہیں۔اور بدکرداریوں کو ان کی آنکھوں میں سجاتے ہیں اور ان کو چارپائے یا پتھربنانا چاہتے ہیں اللّٰہ أخزاہم۔ فإنہم عصوا أمام أعین اللّٰہ فأراہم ما أراہم۔ وترکہم فی آفات وما نجّاہم۔ووزراؤہم قوم مغشوشون۔ یأکلون أموالہم ولا یخلصون۔ لا یمنعونہم من التعامی و التصابی۔ ویُغمضون لہم کالفطن المتغابی۔ وینضحون عنہم کالمداہن الْمُحابی۔ وإنہم قسمان۔قسم کالعقارب وقسم کالنسوان۔ أو نقول بتبدیل البیان۔قسم کغُمر جاہل ما أعطی لہم حظ من العرفان۔ وقسم کذی غمر متجاہل لا یریدون إلا ہلاک ملوکہم کالشیطان۔ یرون سلاطینہم یقربون حرمات اللّٰہ ومناہی الشرع۔ ثم یندّدون بأنہ من المباحات ولیس مما یخالف طریق الورع۔ ویُزیّنون فی أعینہم أمرا ہو أقبح السیئات۔ ویریدون أن یجعلوہم کالعجماوات بل الجمادات۔