اور وہ ان کی حدوں اور مملکتوں پر قابض ہورہے ہیں اور ہر ایک ریاست کو دباتے چلے جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے ان لوگوں کو اس لئے نصرت نہیں دی کہ وہ ان پر رحیم ہے بلکہ اس لئے کہ اس کا غضب مسلمانوں پر بھڑکاہوا ہے کاش مسلمان جانتے۔اور اگر یہ متقی ہوتے تو کیونکر ممکن تھا کہ ان کے دشمن ان پر غالب کئے جاتے۔بلکہ جب انہوں نے دعا اور عبادت کو چھوڑ دیاتب خدانے بھی ان کی کچھ پروا نہ کی۔سو یہ اب اپنی کرتوتوں کے سبب سزاپارہے ہیں اور یقیناًخدا کے نزدیک سب جانداروں سے بدتر وہ لوگ ہیں جو ایمان کے بعد فاسق ہو جائیں اور بدکاریاں کریں اور نہ ڈریں۔ خدا کا عہد توڑنے اور قرآن کی حدود کی بے عزتی کرنے کے سبب سے خطرناک حادثے ان پر نازل ہو رہے ہیں۔اور بہت سے شہر ان کے ہاتھوں سے نکل گئے ہیں۔ غفلت نے ان کو حقوق سے دور کر دیا ہے اور پرستاران صلیب کے خیمے ان کے ملکوں میں آلگے ہیں۔یہ سب خدا تعالیٰ کی طرف سزااور گرفت ہے۔ازبسکہ انہوں نے بدکاریاں کرکے خداکامقابلہ کیا۔اس کانتیجہ یہ ہواکہ کفارسے شکست کھاگئے۔دشمنوں نے انہیں ویُنصَرون۔ ویأخذون ثغورہم ویتملّکون۔ ومن کل حدَبٍ ینسلون۔ وما نصرہم اللّٰہ لرحمتہ علیہم بل نصرہم لغضبہ علی المسلمین لو کانوا یعلمون۔ وکیف أُظْہِرَ علیہم أعداء ہم إن کانوا یتّقون؟ بل لمّا ترکوا الدعاء و التعبّد۔ ما عبأ بہم ربہم فہم بما کسبوا یُعَذّبون۔ وإن شرّ الدواب قوم فسقوا بعد إیمانہم ویعملون السیئات ولا یخافون۔ فبما نکثوا عہد اللّٰہ ونقضوا حدود الفرقان۔ طوّحت بہم طوائح الزمان۔ وخرج من أیدیہم کثیر من البلدان۔ وأنأتہم غفلتہم عن حقوقہم وضُربت علیہم خیام أہل الصلبان۔ نکالا من اللّٰہ وأخذًا من الدیّان۔ إنّہم بارزوا اللّٰہ بالمعصیۃ۔ فولّوا الدبر من الکفرۃ۔ وما أخزاہم عداہم ولکن