بلکہ ان عیش پسند غافل بادشاہوں کا وجود مسلمانوں پر خدا تعالیٰ کا
بڑا بھاری غضب ہے۔ جو ناپاک کیڑوں کی طرح زمین سے لگ گئے ہیں
اور خدا کے بندوں کے لئے پوری طاقت خرچ نہیں کرتے اور لنگڑے اونٹ
کی طرح ہو گئے ہیں اور چُست چالاک گھوڑے کی طرح نہیں دوڑتے۔اسی سبب سے آسمان کی نصرت ان کا ساتھ نہیں دیتی اور نہ ہی کافروں کی آنکھ میں ان کا ڈر خوف رہا ہے جیسے کہ پرہیزگاربادشاہوں کی خاصیت ہے بلکہ یہ کافروں سے یوں بھاگتے ہیں جیسے شیر سے گدھے۔اور لڑائی کے میدان میں ان کے دو ہزار کے لئے دو کافر کافی ہیں۔سو اس بزدلی اور ادبار کا سبب بجز بدکاروں کی طرح عیش و عشرت کی زندگی بسر کرنے کے اور کچھ نہیں۔اور ایسی
خیانت اور گمراہی کے ہوتے انہیں کیونکر خدا سے مدد ملے۔اس لئے کہ
خدا اپنی دائمی سنت کو تبدیل نہیں کرتا اور اس کی سنت ہے کہ کافر کو تو
مدد دیتا ہے پر فاجر کو ہرگز نہیں دیتا۔یہی وجہ ہے کہ نصرانی بادشاہوں کو مدد مل رہی ہے اور
بل من أول أسباب غضب اللّٰہ علی المسلمین وجود ہذہ السلاطین الغافلین المترفین۔ الذین أخلدوا إلی الأرض کالخراطین۔ وما بذلوا لعباد اللّٰہ جہد المستطیع۔ وصاروا کظالع وما عدوا کالطِرْفِ الضلیع۔ ولأجل ذالک ما بقی معہم نصرۃ السماء ۔ ولا
رعبٌ فی عیون الکفرۃ کما ہو من خواص الملوک الأتقیاء۔
بل ہم یفرّون من الکفرۃ۔ کالحُمُر من القسورۃ۔ وکفی لألف
منہم اثنان فی موطن الملحمۃ۔ فما سبب ہذا الجبن وہذا
الادبار۔ إلا عیشۃ التنعّم والا تراف کالفجّار۔ وکیف یُعضّدون بالنصرۃ والإعانۃ۔ مع ہذہ الغوایۃ والخیانۃ؟ فإن اللّٰہ لا
یُبدّل سُنّتہ المستمرۃ۔ ومن سُنّتہ أنہ یؤیّد الکفرۃ ولا
یؤیّد الفجرۃ۔ ولذالک تری ملوک النصارٰی یؤیّدون