دل کہاں جس کاشیوہ حق اور عدالت ہو۔بلکہ آج خلافت کے تخت ان صفات سے خالی ہیں۔اور ان پر جسم بلا روح بٹھائے گئے ہیں۔ بلکہ وہ مُردوں سے بھی زیادہ ردّی ہیں۔اور ان کا وجود اسلام کے حق میں بہت بڑی مصیبت ہے اور دین کے لئے اُن کے دن سخت ہی منحوس دن ہیں۔ کھاتے پیتے ہیں اور خرابیوں کی طرف نہیں دیکھتے اور نہ کڑھتے ہیں اوردھیان نہیں کرتے کہ ملت کی ہوا ٹھہر گئی ہے۔ اور اس کے چراغ بجھ گئے ہیں اور اس کے رسول کی تکذیب ہو رہی ہے اور اس کے صحیح کو غلط کہا جا رہا ہے بلکہ ان میں سے بہتیرے خداکی منع کی ہوئی چیزوں پر اڑبیٹھے ہوئے ہیں۔اور سخت دلیری سے خواہشوں کو محرمات کے بازاروں میں لے جاتے ہیں۔ حرام کاریوں کی جگہوں میں جلد دوڑ کر جاتے ہیں۔خوبصورت عورتوں اور راگ رنگ اور ہر قسم کی جہالتوں پر جھکے ہوئے ہیں۔صبح اور شام ان کی خوش زندگی ہر طرح کی لذات میں بسر ہوتی ہے۔سو ایسے لوگوں کو خدا سے کیونکر مدد ملے جبکہ ان کے ایسے پُر معصیت اور بُرے اعمال ہوں۔ الصالحین قلب متقلّب مع الحق والمعدلۃ؟ بل الیوم سُرُرُ الخلافۃ خالیۃ من ہذہ الصفات۔ وأُلقیَ علیہا أجساد لا أرواح فیہا بل ہی أردء من الأموات۔ وإن وجودہم أعظم المصائب علی الإسلام۔ وإن أیامہم للدین أنحس الأیام۔ یأکلون ویتمتّعون۔ ولا ینظرون إلی المفاسد ولا یحزنون۔ ولا یرون الملّۃ کیف رکدت ریحہا۔ وخبت مصابیحہا۔ وکُذّب رسولہا وغُلّط صحیحہا۔ بل تجد أکثرہم مُصرّین علی المنہیات۔ المُجترئین علی سَوْق الشہوات إلی سُوق المحرمات۔ المسارعین بنقل الخطوات إلی خطط الخطیات۔ المتمایلین علی الغید والأغارید وأنواع الجہلات۔ المصبحین فی خُضُلّۃ من العیش والممسین فی أنواع اللذّات۔ فکیف یُؤَیّدون من الحضرۃ مع ہذہ الأعمال الشنیعۃ والمعصیۃ۔